پلک جھپکنے سی دیر میں ہی یہ سب نظارے بدل ہیں جاتے
کہ حسرتیں ساری مر ہیں جاتی سبھی سہارے بدل ہیں جاتے
وہ جن کی خوشبو سے زندگی کی حسین یادیں مہک رہی ہوں
ہو بے بسی کی بس ایک دستک وہ یار سارے بدل ہیں جاتے
کے جن کے ملنے کی تم کو چاہت لبھائے رکھے گماں میں اپنے
ملیں کہیں آسمان پر تو وہیں ستارے بدل ہیں جاتے
ہے عمر گزری جو رنجشوں میں تو یہ حقیقت بھی کھل گئی ہے
ہزار نغموں میں اک گلہ ہو تو اپنے پیارے بدل ہیں جاتے
جو کی مشقت تو سخت گرمی میں اپنے آنسو چُھپا کے رکھے
کہا تھا ماں نے کہ غم نہ کرنا کہ دن تو سارے بدل ہیں جاتے
ہیں دور تک ہیں دکھائی دیتے تمہیں امیدوں کے جو مناظر
کہ رات ڈھلنے کے بعد ہی وہ سبھی کنارے بدل ہیں جاتے
کبھی کسی کو اداس دیکھو تو اس کے اندر کا درد سمجھو
یقین جانو ہے میں نے دیکھا کہ دل کے ہارے بدل ہیں جاتے
یہ لوگ شہرت کی تیرگی میں بلندیوں سے ہیں آن گرتے
مگر جو لیتے ہیں اُن سے عبرت وہ ڈر کے مارے بدل ہیں جاتے
کسی کو کم تر نہ دیکھنا کہ یہ کام صاحِبؔ ہے کم نظر کا
کہ یوں تو کتنے ہی عام پتھر زرا نکھارے بدل ہیں جاتے
بلاول علی صاحِبؔ

0