| دیکھے ہیں گلستاں میں بہت خاروں کے جھرمٹ |
| دل نے بھی سنبھالے ہیں شراروں کے جھرمٹ |
| ریشم سا بدن اس کا، عجب حسنِ مجسم |
| حیرت میں اتر آئے کئی تاروں کے جھرمٹ |
| جس راہ پہ اس شوخ نے رکھا قدمِ ناز |
| اس راہ پہ کھل اٹھے بہاروں کے جھرمٹ |
| کیا خوب مسیحائی ترے ہاتھ میں دیکھی |
| کوچے میں ترے بیٹھے بیماروں کے جھرمٹ |
| بازارِ مصر آج بھی حیرت میں کھڑا ہے |
| دیکھے جو ترے رخ کے خریداروں کے جھرمٹ |
| ایسی بھی چلی وقت کی بے رحم ہوا تھی |
| بکھرے ہیں مرے آنگن سے یاروں کے جھرمٹ |
| رخسار ترا دیکھ کے جب شعر کہا ہے |
| لفظوں میں اتر آئے مہ پاروں کے جھرمٹ |
معلومات