یہ عشق مجھ پہ کرم آج اتنا سا کر دے
تری نظر سے مرے دل کو آشنا کر دے
غرور دل کو بھی ہے اپنے جذب و کیف کا جب
یہ محوِ ناز کو کیوں کر نہ پھر خفا کر دے

0
11