زندگی بھی کتاب رکھتی ہے
ہر ستم کا حساب رکھتی ہے
منہ لگانا ضروری تو نہیں ہے
خامشی بھی جواب رکھتی ہے
کیا خزانہ عیاں بھی ہوتا ہے؟
دلکشی تو حجاب رکھتی ہے
تیرگی اعتراض؛۔۔۔ کیا کرتی
روشنی لاجواب رکھتی ہے
اب محبت عذاب لگتی ہے
دل کو زیرِ عتاب رکھتی ہے

0
7