نام اپنے ہے گندگی لے لی
چھوڑ عصمت ہے رند گی لے لی
صرف کچھ راتیں مانگی تھی میں نے
اس غزل نےتو زند گی لے لی
تم پری ہو رہینِ احکامات
اک نظر میں ہی بندگی لے لی
ان کے شبنم میں محو ہونٹوں نے
عمر بھر تک ہے تشنگی لے لی
بس محبت سے ہیں مری سانسیں
اور محبت نے زند گی لےلی
روزِ محشر عبید سجدہ کر
جب خدا نے ہو بندگی لےلی

0
87