حیف ہے اس پہ اسے کچھ بھی گوارا نہیں ہے۔ |
ایک ہم ہیں جیے بن کوئی بھی چارہ نہیں ہے۔ |
دیکھے جب آنکھ سمندر ہی سمندر دیکھے۔ |
سرے منظر تھا سمندر کہ کنارہ نہیں ہے۔ |
ہے مثل شب سیہ جس میں نہیں ہے کوئی دیا۔ |
کہ فلک ایسا بے نور اس پہ ستارہ نہیں ہے۔ |
منتظر ہے ابھی صورت یہ بے زاری کیوں ہے۔ |
سب سہارے تھے کوئی بھی تو ہمارا نہیں ہے۔ |
لب ہیں خاموش کہ ماضی جو تھا پر خواب ہوا۔ |
رگ جاں بر مستقلا کوئی اشارہ نہیں ہے۔ |
کیسی اب مشکلیں در پیش ہیں میرے ساتھی۔ |
کیسے کروٹ لوں کوئی اپنا سہارا نہیں ہے۔ |
کسی تشبیہ ادھاروں سے چلا کام کوئی۔ |
لب و لہجہ دکھا کس کس کو پکارا نہیں ہے۔ |
معلومات