| تجھے دل میں رکھا ہے محرم سمجھ کر |
| رکھو مجھ کو پہلو میں ہمدم سمجھ کر |
| ترے بعد کیسے گزاری ہے ہم نے |
| کبھی سوچ لو خود کو تم، ہم سمجھ کر |
| کسی نے مجھے پھر سے بہکا دیا ہے |
| کرو درگزر ابن آدم سمجھ کر |
| ترے پاس آیا ہوں اب تو دوا کر |
| نمک رکھ لے زخموں پہ مرہم سمجھ کر |
| خوشی سے کسی اور کا وہ ہوا پر |
| وہ لپٹے گا اس سے بھی ارقم سمجھ کر |
معلومات