| نہ جانے کیوں طبیعت مضمحل ہے |
| اجل ہمراہ ہے اور مستقل ہے |
| یہ کیسا شور برپا ہو گیا ہے |
| مری تنہائی میں یہ کیا مخل ہے |
| محبت میں کبھی شدت بہت تھی |
| ابھی تو دل کا موسم معتدل ہے |
| ہمیشہ سوچ مثبت تھی ہماری |
| اسے کیا ہوگیا اب منفعل ہے |
| جگر پر بس نشاں باقی رہا ہے |
| وگرنہ زخم میرا مندمل ہے |
| مسافر ہیں، یہاں سب عارضی ہے |
| ٹھکانہ آخرت میں مستقل ہے |
معلومات