نام سرکار کا پیارا ہے
عاصیوں کا بنا سہارا ہے
رب عالم نے مصطفیٰ سے کہا
جو ہے تیرا وہی ہمارا ہے
دونوں عالم بنا کے خالق نے
صدقہ محبوب کا اتارا ہے
وہ نہ ہوتے نہ یہ جہاں ہوتا
ان سے روشن جہان سارا ہے
گرتے گرتے ہوں جو سنبھل جاتا
جان جاں آپ کا سہارا ہے
ان کو تکلیف ہو ذرا سی بھی
یہ خدا کو نہیں گوارا ہے
والضحی سے ہوا یہ دن روشن
لیل سے رات کا نظارہ ہے
وہ ہیں قاسم ہر ایک نعمت کے
ان کے ٹکڑوں ہی پر گزارا ہے
ان کی صورت پہ سورتیں آئیں
اس کا شاہد ہر اک سپارہ ہے
اس کی امداد ہوگئی فوراً
جس نے دل سے انھیں پکارا ہے
جس نے دیکھا حسن کو یہ بولا
مصطفیٰ کا ہوا نظارہ ہے
جس جگہ تاجدار سائل ہیں
شاہ عالم کا وہ دوارہ ہے
پاک زہرا کی آل کے صدقے
چمکا لقمان کا ستارہ ہے

0
2