اے بادِ بہاری پھر سے فلک سے نجوم تو لا۔
پھولوں کی منڈیر پہ تتلیاں اب کے ہجوم تو لا۔
اب قلب ہے دھڑکا امیدِ وفا پھر ہے چمکا۔
اب خاک ہو کر زمیں کی تب آسماں چوم تو لا۔
کر کام تو تیری جیت ہو گی اسی لشکر سے۔
عنوان دیے ہیں ڈھونڈ کے اب مقسوم تو لا۔
لُو چاند سے اور ضیا کو ستاروں سے مانگ لو۔
سورج کی چمک سے شگفتہ بنا مفہوم تو لا۔
اک ہم نہ رہے یوں ہزاروں جہاں میں مگر آئے۔
کمیاب ہیں ڈھونڈ کے چہرے بھی معصوم تو لا۔
اے زندگی پڑھ چکا ہوں چہرے ہزاروں ملے۔
خود ڈھونڈ لکھا کے نصاب نئے یوں علوم تو لا۔
بھنورا مارا جاۓ گا ہوا میں بے مقصد ہی۔
تو چل نہ مگر کہ فلک سے بادِ سموم تو لا۔
یہ شکل و شباحت خاک میں پنہاں ہو گی اک دن۔
سب خاکی فنا ہے چاہے زمانہ ہی گھوم تو لا۔

51