شارح دُکاں پہ تیری ہیں جو آتے سب کے سب
بِکتا نہیں ہے مال بنا اِلتفات کے
تو حید بھی ہے اور ہے بُتوں سے بھی دِل لگی
ڈھونڈھوں میں ہر طرف سے حوالے نجات کے
حیدر نہ کیوُں کرے کسی بُت کی پرستشیں
چرچے فِضا میں اب بھی ہیں لات و منات کے

0
2