| فلک پر رات بھر مہتاب اور تاروں نے باتیں کیں |
| شب تنہائی مجھ سے گھر کی دیواروں نے باتیں کیں |
| شکایت غیر سے مجھ کو عبث معلوم ہوتی ہے |
| مگر جن پر میں نازاں تھا انہی یاروں نے باتیں کیں |
| خزاں میں گلستاں میں جب سبھی پھولوں کو موت آئی |
| بہار آنے تلک تتلی سے پھر خاروں نے باتیں کیں |
| لپٹ کر ماں سے بیٹا دیر تک خاموش تھا لیکن |
| یکا یک چپ کو توڑا اشک کی دھاروں نے باتیں کی |
| دھواں سیگریٹ کا ، چائے ، یار کی یادیں ، اکیلا پن |
| مرے کمرے میں شب کو دیر تک چاروں نے باتیں کیں |
| بہت مدت سے کومہ میں پڑے تھے وینٹیلیٹر پر |
| طبیب دل کی آہٹ پا کے بیماروں نے باتیں کی |
| کہانی قیس کی فرہاد کی رانجھے کی سسی کی |
| یہی حاصل ہے سب کا سب میں دستاروں نے باتیں کیں |
| جو باتیں باتوں باتوں میں بھی سمجھانا نہ مشکل تھا |
| انہی باتوں کے سمجھانے کو ہتھیاروں نے باتیں کیں |
| میں اس سے جب ملا ارقم خموشی اوڑھ لی لیکن |
| دل بیتاب رویا اور جگر پاروں نے باتیں کیں |
معلومات