وادیوں میں جب سحر کے ہاتھ سے مخمل گرے
اور سبزے کی قبا پر موتیوں کے دَل گرے
پھول جب چلمن ہٹائیں، مسکرائیں بے سبب
فلسفہ کہتا ہے، دیکھو! لوٹ آیا ہے شباب
​پھول کیا ہے؟ ایک خاموش آرزو کی داستاں
خاک سے افلاک تک پھیلا ہوا اک امتحاں
جس کے دامن میں چھپی ہے زندگی کی ہر کٹھن
رنگ بن کر کھل گیا ہے، روحِ ہستی کا بدن

0
4