مطلع:
بات سے بات جو نکلے، ذکر کو بہ کو ہو جائے
دل بھی خوشی سے جھومے، رُخ پر گیسو ہو جائے
اک جستجو سے اگر وصل کی راہیں کھل جائیں
پھر کتنی ہی سہل ہماری گفتگو ہو جائے
وقت جو رائیگاں گزرا سو وہ بیت گیا ہے
وقتِ کمال اے جاناناں رو بہ رو ہو جائے
جب تک تُو سامنے ہے کوئی خوف نہیں
اک لمسِ سخن سے روشن لہو ہو جائے
صبر کا جام لبالب پیمانہ چھلکنے کو ہے
نم دیدہ آنکھوں سے چہرے کا وضو ہو جائے
کچھ تو نگاہِ کرم اشکوں پہ بھی پڑ جائے
چاکِ گریباں کوئی لمحے میں رفو ہو جائے
تیرا مرا یہ تعلق اور بھی بڑھتا جائے
پھیلے ذکر تیرا چرچا ہرسو ہو جائے
دل شوق کے تقدس پہ نثاراں ہی رہا
کاش وہ سمجھے تو یہ سوز ذرا قابو ہو جائے
دل کی حسرتِ ناتمام اب تو سو سی گئی
کاش عشق پہ بھی کوئی قرینہ لاگو ہو جائے
چہرہ تیرا سنور کر اک ہالہ سا بن جائے
قسمت چمکے سحاب اٹھے جگنو ہو جائے
جتنا تعلق تھا اُس سے سب ہی مٹا جائے
پردہ اُٹھے تو کوئی نیا ربط نمو ہو جائے
لکھنے کو بیٹھے جب بھی لکھاری ترے اوصاف
سوچوں میں گم ہو قلم بھی سرخرو ہو جائے
مقطع:
خاکی تیرے کرم سے میں سب غم بھلا دوں
کاش کہ تیرا جلوہ میرے روبرو ہو جائے

0
2