صبحِ رنگیں تو آ چُکی ہے مگر
دِل کے آنگں میں کیوُں نہیں بُلبُل
زخم کیسے دِکھائیں ہم اپنے
وقت کی چاپ کون سُن پایا
روز ہی مون سون آنکھوں میں
طرزِ طوفاں مزاج رہتا ہے
بجلی برسات بادل اور رم جھم
دریا آنکھوں کے پاس رہتا ہے
آہ پر آہ چلتی رہتی ہے
دل پر ان ہی کا راج رہتا ہے
دل کو ہر آن تھامے رکھتے ہیں
خبروں کا اعتبار کیا حیدر

0
37