دل کو کیسے گِلے لگائے ہیں
رنج اس نے عجب اٹھائے ہیں
تھی محبت تو ہم تمہارے تھے
اور اب فاصلے بڑھائے ہیں
ہم کو زینت بنا کے محفل کی
اور اب راستے بھلائے ہیں
پہلے نوچا ہماری عصمت کو
اور اب دام بھی گھٹائے ہیں
میرے محسن مرے خداوندا
تو نے کیسے خدا بنائے ہیں

0
8