| چشمِ نم بھی نہیں جامِ تر بھی نہیں |
| اس جہاں میں کہیں میرا گھر بھی نہیں |
| تجھ سا چہرا ملا نہ کہیں بھی مجھے |
| تیرے در سا ملا کوئ در بھی نہیں |
| یہ الگ بات تجھ سے محبت بھی ہے |
| یہ الگ بات تجھ کو قدر بھی نہیں |
| میں نے چھوڑا نہیں اب بھی دامن ترا |
| ہاں مگر تجھ کو اس کی خبر بھی نہیں |
| ہم جدا رہ کے بھی جی رہے ہیں صنم |
| پر بچا ضبط کا اب ہنر بھی نہیں |
| فیصلؔ اب مے کدہ ہے ٹھکانا مرا |
| مے پلانے کو پر وہ نظر بھی نہیں |
معلومات