بے خودی مٰیں کمال رکھتا ہوُں
لاجواب اک سوال رکھتا ہوُں
نہ مجھے روک مے کشی سے یار
پی کے تیرا خیال رکھتا ہوں
ہو گئی جب سے دوستی تجھ سے
عالمِ بے مثال رکھتا ہوُں
ظُلمتوں میں دیا خیالوں کا
کیا میں کوئی زوال رکھتا ہوُں
میرا فن ہی ہے میرا سرمایہ
حُسن سے میل تال رکھتا ہوُں
تیری محفل میں میری خاموشی
دھڑکنوں کو بحال رکھتا ہوُں
نت نئی بات سنتا رہتا ہوُں
ایک اپنی بھی چال رکھتا ہوُں
کہتے ہیں یہ عجب سا بندہ ہے
کیا جنوُبا" شمال رکھتا ہوُں

0
36