اپنے دل سے پیار محبت کی معیاری گفتگو کر لوں۔
کچھ پل بیت گئے ہیں بے مقصد اب با مقصد جستجو کر لوں۔
وقت کی تیزی رفتاری دوبارہ موقع دے نہ دے تمہیں۔
اب خود سے دھل کر آبے تازہ سے میں بھی تو وضو کر لوں۔
زندگی اس کی امانت سانس عطا کیے اک نعمت ملی ہے۔
یہ لمحات غنیمت جان کے اپنا یہ دامن رفو کر لوں۔
تیری زندگی کی ہے ڈوری ہوا کے جھونکوں سے ہے بندھی۔
جینا ہے جب تک جی چلوں کچھ دیر ٹھہر جا ہو ہو کر لوں۔
وقتی پل حالات کے بل یہ اجل گزری مثلے برقی رو۔
اس کی رحمت جوش میں ہے دامن تر بھر کر یہ چلو کر لوں۔
وقتی بیاری سے کھیتی سرسبز و شاداب رہ سکتی ہے تب۔
زندہ رکھنا ہے فصل کو فی الحال میں کوشش آب و جو کر لوں۔
اب آ کر خود دیکھ لے شیشے میں تجھے تیرا ہی عکس ملے گا۔
چہرہ جو دیکھنا ہے کسی آئینے کے خود کو روبرو کر لوں۔

0
4