| ایک رُباعی (7 اپریل 2024) از: مُصطفےٰ سجاد حیدر |
| میرے اندر کشمکش اپنے ہی سازوں سے بھی ہے |
| دوستی رندوں سے بھی اور پاک بازوں سے بھی ہے |
| اتنا بھی ظالِم نہیں حیدر کہ بھُولے یار کو |
| عید پر مِلنا ہمیں تو چالبازوں سے بھی ہے |
| ایک رُباعی (7 اپریل 2024) از: مُصطفےٰ سجاد حیدر |
| میرے اندر کشمکش اپنے ہی سازوں سے بھی ہے |
| دوستی رندوں سے بھی اور پاک بازوں سے بھی ہے |
| اتنا بھی ظالِم نہیں حیدر کہ بھُولے یار کو |
| عید پر مِلنا ہمیں تو چالبازوں سے بھی ہے |
معلومات