| (حصہ دوم) |
| تضمین: کعبہ کے بَدْرُ الدُّجٰی تم پہ کروڑوں درود |
| کلام:- اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی قدس سرہ العزیز |
| اب نہ کرو مجھ کو مَنْع ، بہنے دو آنکھوں سے دَمْع |
| اب تو یہی ہے طَمْع ، دِل میں ہو بس خیر جَمْع |
| ہو مجھے ہر گام نَفْع ، غیر کا ہو دل سے قَلْع |
| لو تہِ دامن کہ شَمْع جھونکوں میں ہے روزِ جَمْع |
| آندھیوں سے حَشَر اُٹھا تم پہ کروڑوں درود |
| سیِنَہ تو ہو باغ باغ ، دو مجھے اپنا سُراغ |
| دل میں ہو جائے فَراغ ، آ کے جلا دو چَراغ |
| دور ہوں یہ اہلِ زاغ ، اور ہو مُعَطَّرْ دِماغ |
| سینہ کہ ہے داغ داغ کہہ دو کرے باغ باغ |
| طیبہ سے آ کر صبا تم پہ کروڑوں درود |
| تم سے جو ہوں مُعْتَسِفْ وہ ہوں سدا مُنْخَسِف |
| اہلِ جہاں مُعْتَرِف تم پہ جہاں مُنْکَشِف |
| رُخ کرو تم مُنْعَطِف ، تو ہو سزا مُنْحَرِف |
| گیسو و قد لام اَلِف کردو بَلَا مُنْصَرِف |
| لا کے تَہِ تیغِ لا تم پہ کروڑوں درود |
| صُبْحِ ولادت شَفَق میں عَیاں ہے نُورِ حَق |
| دُشْمَنوں کے رُخ ہیں فَق جب ہوئے روشن طَبَق |
| مَہ کا ہوا سینہ شَق اور پڑی جاں میں رَمَق |
| تم نے بَرَنگِ فَلَق جیبِ جہاں کر کے شَق |
| نور کا تڑکا کیا تم پہ کروڑوں درود |
| سب لیں تمہی سے کَمَک کھائیں تمہارا نَمَک |
| گل میں تمہاری مَہَک ہر سو تمہاری چَمَک |
| دیکھنے کو اک جَھلَک چاند نہ جھپکے پَلَک |
| نَوبتِ دَر ہیں فَلَک خادمِ در ہیں مَلَک |
| تم ہو جَہاں بادشہ تم پہ کروڑوں درود |
| خَلْق میں تم بے مَثِیل ، رب کی ہو ناطِق دَلیل |
| حَشْر میں تم ہی کَفِیل ، سب سے کہیں گے خََلِیل |
| سب کے غَموں کے مُزِیل ، مانیں نہ نجدی ذَلِیل |
| خِلق تمہاری جمیل خُلق تمہارا جَلِیل |
| خَلق تمہاری گدا، تم پہ کروڑوں درود |
| مَہْبّطِ خیرُ الْکلام ، وَصْف ہے خَیرُ الْاَنام |
| مِحْوَرِ دَورِ دَوام ، قاسمِ فَیضِ مُدام |
| حافِظِ بیتُ الْحرام مالِکِ دارُ السَّلام |
| طَیبہ کے ماہِ تَمام ، جُملہ رُسُل کے اِمَام |
| نوشۂِ مُلْکِ خُدا تم پہ کروڑوں درود |
| تم پہ ہے اُترا کَلام ، ہادئِ راہِ سَلام |
| تم پہ رِسالت تَمام ، تم سے نُبُوَّت بھی تام |
| رَب نے کیا اِہْتِمام ، تم ہوئے اسرٰی خِرام |
| تم سے جَہاں کا نِظام ، تم پہ کروڑوں سلام |
| تم پہ کروڑوں ثَنا ، تم پہ کروڑوں درود |
| تم ہو نَویدِ کلیم ، تم ہو حَبیبِ قدیم |
| تم ہو قَسیمِ نَعِیم ، تم ہو طَبیبُ و حَکیم |
| تم ہو شِفائے سَقیم ، تم ہو قَرارِ سَلِیم |
| تم ہو جواد و کریم ، تم ہو رؤف و رحیم |
| بھیک ہو داتا عطا تم پہ کروڑوں درود |
| لَوح کے عالِم ہو تم ، جَہْل سے سالم ہو تم |
| ظُلْم کے خاتِم ہو تم ، عَدْل کے عازِم ہو تم |
| جُود پہ دائِِم ہو تم ، قَول پہ قائِِم ہو تم |
| خَلْق کے حاکِم ہو تم ، رِزْق کے قاسِم ہو تم |
| تم سے مِلا جو مِلا تم پہ کروڑوں درود |
| ساطِعُ و لامِع ہو تم مَظْہَرِ صانِع ہو تم |
| دین کے شارِع ہو تم ، شَرُع کے واضِع ہو تم |
| ظُلْم سے مانِع ہو تم ، شِرْک کے قاطِع ہو تم |
| نافِعُ و دافِع ہو تم ، شافِعُ و رافِع ہو تم |
| تم سے بس اَفْزُوں خُدا تم پہ کروڑوں درود |
| آمِرُ و ناہی ہو تم ، قاضی و داعی ہو تم |
| حامی و نامی ہو تم ، تالی و قاری ہو تم |
| رازِ خدائی ہو تم ، نورِ اِلٰہی ہو تم |
| شافی و نافی ہو تم ، کافی و وافی ہو تم |
| دَرْد کو کر دو دَوا تم پہ کروڑوں درود |
| حَشْر میں ہے گام گام ، اونچا تمہارا مقام |
| تم سے خُدا ہَم کلام، اور ہے تمہیں اِذْنِ عام |
| کر دو غُلاموں کے نام ، خُلْدِ بریں کا مقام |
| جائیں نہ جب تک غُلام ، خُلْد ہے سب پر حَرام |
| مُلْک تو ہے آپ کا تم پہ کروڑوں درود |
| ہادیِٔ حق ہو تمہیں ، مُعْلِنِ حق ہو تمہیں |
| ناطِقِ حق ہو تمہیں ، ناصِرِ حق ہو تمہیں |
| کاتِبِ حق ہو تمہیں ، کاشِفِ حق ہو تمہیں |
| مَظْہَرِ حَق ہو، تمہیں مُظْہِرِ حَق ہو تمہیں |
| تم میں ہے ظاہِر خدا تم پہ کروڑوں درود |
| بار گَہِ عاصِیاں دَسْت گَہِ بے بَساں |
| قِبلہ گَہِ ہادِیاں دَرْس گَہِ ناقِصاں |
| عید گَہِ عاشِقاں خَیمَہ گَہِ کامِلاں |
| زَور دِہِ نارساں تکیہ گہِ بےکساں |
| باد شہِ ماورا تم پہ کروڑوں درود |
| مَسْت ہو چَرْخِ کُہَن ، شَمْس سے پھوٹے کِرَن |
| مہکے یوں بَزْمِ سَخُن ، شاد ہوں اَہْلِ وَطَن |
| دور ہوں رَنج و مِحَن ، وَصْل کا پائیں زَمَن |
| برسے کَرَم کی بھَرَن ، پھولیں نِعَم کے چَمَن |
| ایسی چلادو ہوا تم پہ کروڑوں درود |
| کس سے کہیں مومنین؟ چار طَرَف ناقِدین |
| ایک طَرَف مُلْحِدِین ، ایک طَرَف شا تِمِین |
| ایک طَرَف مُفْسِدِین ، ایک طَرَف مُشْرِکِین |
| ایک طَرَف اعدائے دین ، ایک طَرَف حاسِدِین |
| بندہ ہے تنہا شہا تم پہ کروڑوں درود |
| کہنے کو اَخْرَس ہوں میں ، چال میں اَجْلَس ہوں میں |
| کب کہا چوکَس ہوں میں ، کب کہا پارَس ہوں میں |
| ٹھیک ہے ناکَس ہوں میں ، پر تمہی سے مَس ہوں میں |
| کیوں کہوں بے کَس ہوں میں ، کیوں کہوں بے بَس ہوں میں |
| تم ہو میں تم پر فِدا تم پہ کروڑوں درود |
| کونسے ہیں ہم حَسِین ، اور نہیں ہم ذَہِین |
| کب کہا ہیں ہم فَطِین ، ہم نہ کہیں سے اَمِین |
| سب سے ہیں ہم بدتَرِین ، تنگ ہے ہم پر زَمین |
| گندے نکمّے کَمِین ، مہنگے ہوں کوڑی کے تِین |
| کون ہمیں پالتا تم پہ کروڑوں درود |
| ہم نہ سَفَر کے کہیں اور نہ حَضَر کے کہیں |
| ہم نہ مَقَر کے کہیں اور نہ مَفَر کے کہیں |
| ہم نہ اِِدَھر کے کہیں اور نہ اُدَھر کے کہیں |
| باٹ نہ در کے کہیں ، گھاٹ نہ گھر کے کہیں |
| ایسے تمہیں پالنا تم پہ کروڑوں درود |
| ایسوں سے نِسْبَت ملاؤ ایسوں کو اپنا بتاؤ |
| ایسوں کو عَظْمَت دِلاؤ ، ایسوں کو حِکْمَت سِکھاؤ |
| ایسوں کی بِگْڑی بناؤ ، ایسوں کو دَر پر بلاؤ |
| ایسوں کو نِعْمَت کھلاؤ دودھ کے شَرْبَت پلاؤ |
| ایسوں کو ایسی غِذا تم پہ کروڑوں درود |
| عَرْض ہماری سُنو ، درد ہمارا سَہو |
| غَم کا مُدَاوا کَرو ، ساتھ ہمارے رَہو |
| لاج ہماری رکھو آس ہماری بَنو |
| گِرنے کو ہوں رَوک لو ، غوطہ لگے ہاتھ دَو |
| ایسوں پر ایسی عَطا تم پہ کروڑوں درود |
| شافِعِ مَحْشَر تو ہو ، بَہْرِ شِفاعت چلو |
| اپنے غُلاموں سے تو خوفِ سَزا ٹال دو |
| اپنے گُنہ گاروں کو پہلے ہی مُژدہ کہو |
| اپنے خَطاواروں کو اپنے ہی دامن میں لو |
| کون کرے یہ بھلا تم پہ کروڑوں درود |
| مَظْہَرِ شانِ اِلٰہ ، ہم پہ کَرو اِک نگاہ |
| تم ہو ہمارے گواہ ، تم ہی ہمیں دو پَناہ |
| نامۂِ اعمال آہ ، ہے گُنَہ سے سب سِیاہ |
| کر کے تمہارے گُنَاہ ، مانگیں تمہاری پَناہ |
| تم کہو دامن میں آ ، تم پہ کروڑوں درود |
| تم ہو حَبِیبِ اِلٰہ ، شاہِ سفید و سیاہ |
| جب ہو غَضَب کی نگاہ ، پھر نہ کسی کو ہو راہ |
| عَرْض ہے تُمہی سے شاہ ، اپنی ہمیں دو پَناہ |
| کر دو عَدُو کو تَباہ ، حاسِدوں کو رو براہ |
| اہلِ وَلا کا بھلا تم پہ کروڑوں درود |
| ہم نے غِطا میں نہ کی ، تم نے ضِیا میں نہ کی |
| ہم نے شَقا میں نہ کی ، تم نے دُعا میں نہ کی |
| ہم نے دَغا میں نہ کی ، تم نے وَفا میں نہ کی |
| ہم نے خَطا میں نہ کی، تم نے عَطا میں نہ کی |
| کوئی کمی سَرورا ، تم پہ کروڑوں درود |
| جُرْم کیے شوق سے ، روز سِتَم میں جیے |
| سُسْت عَمَل ہی رَہے ، چُسْت کبھی ناں ہوئے |
| کام کے لَمْحے گئے ، سوچ کے اب رو دِیے |
| کام غَضَب کے کیے ، اس پہ ہے سَرکار سے |
| بندوں کو چَشْمِ رضا تم پہ کروڑوں درود |
| دَر پہ بُلا لیجئے ، پردے ہَٹا دیجئے |
| دَرْد مِٹا دیجئے ، غم کی دَوا کیجئے |
| چَین عَطا کیجئے ، در پہ سُلا لیجئے |
| آنکھ عَطا کیجئے ، اس میں ضِیا دیجیے |
| جلوہ قریب آگیا تم پہ کروڑوں درود |
| ہم پہ عطا کیجئے ، اپنی رضا دے دیجیے |
| جان تمہاری ہی ہے ، بہرِ خدا لیجئے |
| فیضِ رضا جو ملے ، تم سے یوں رضوی کہے |
| کام وہ لے لیجئے ، تم کو جو راضی کرے |
| ٹھیک ہو نامِ رضا تم پہ کروڑوں درود |
| تضمین نگار: |
| ابو الحسنین محمد فضلِ رسول قادری چشتی رضوی ، کراچی |
| 13 ربیع الاول شریف 1448 ھ |
| / 27 اگست 2026ء |
| بروز جمعرات شام 6 بج کر 9 منٹ |
معلومات