تم نے احسان کیا ہے؟ سو جتائیں ؟ جائیں
مجھ کو ادابِ محبت نہ سکھائیں جائیں
ہم نے احسان کیا تم پہ بھلایا تم کو
آپ بھی کرم کریں ہم کو بھلائیں جائیں
وہ جسے لوٹ کے آنا تھا نہیں آئے گا
زندگی کس کے تعاقب میں گنوائیں جائیں
دل سرائے ہے کوئی خانہ مہمان نہیں
جو مسافر ہیں مرے شہر کے آئیں جائیں
ایسے مشروب طبعیت کے منافی ہیں مگر
آپ لائے ہیں تو دو گھونٹ پلائیں جائیں

0