| خامشی کا شور ہے اب بستیوں کے درمیاں |
| اڑ گئے پیڑوں کی شاخوں سے سبھی وہ نغمہ خواں |
| پھول کی خوشبو ہوا کے ساتھ رخصت ہو گئی |
| باغ سے روٹھی بہاریں، زرد ہے اب بوستاں |
| دھوپ کے نیزے بدن کو چھیدتے ہیں آج کل |
| کاٹ ڈالے ہم نے خود ہی ابر کے سب سائباں |
| اب مری آنکھوں میں کوئی خواب رکتا کیوں نہیں |
| بند کمروں میں کہاں دکھتے ہیں نیلے آسماں |
| راکھ بن کر اڑ رہا ہے چاندنی کا پیرہن |
| جل رہا ہے دور بستی میں کسی کا آشیاں |
| بڑھ رہا ہے بوجھ دھرتی پر گناہوں کا مرے |
| گر رہی ہے ٹوٹ کر اب سر پہ اپنے کہکشاں |
| شام ہوتے ہی ابھرتی ہے پرانی اک کسک |
| یاد آتے ہیں ہمیں وہ خالدؔ، اپنے مہرباں |
معلومات