کھیل ہی کھیل میں بتا جانا
تیرا انداز دِل کو بھا جانا
دِلرُبا اور کِس کو کہتے ہیں
دِلکش و دِلنشیں ہیں جاناناں
رت جگے، اِضطراب، رہ تکنا
یہ عنایات اُن کا فرمانا
چال اُس کی سماں قیامت کا
ہوش کے ہوش بھی بھُلا جانا
ساتھ تیرا مجھے لگے جیسے
چاندنی میں مِرا نہا جانا
جام اور مٹکیاں لیئے پھرنا
شام اُترے تو ڈُبکیاں کھانا
آج پھر آئے ہو سرِ محفِل
کیسے ہو گی یہ شب بسر جاناں
ہُوں تو آخِر میں ایک اِنساں ہی
زُعم کِس بات کا نہیں جانا
میرے نغمے اُسی کی بخشش ہیں
حیرتوں کا لِباس پا جانا
یہ کرشمے اُسی کے دَم سے ہیں
ناتواں کو گِراں بنا جانا
تیری حالت کو دیکھ کر حیدر
تُجھ کو ہے عِشق ہم نے ہے مانا

0
25