| یہ سچ ہے اپنی ذات سے ہی بھاگتا ہوں میں |
| کچھ ایسے زخم ہیں کہ جنہیں پالتا ہوں میں |
| آیا عدم سے دیکھیے جاتا کدھر کو ہوں |
| ہے خاک بے بسی کی جسے چھانتا ہوں میں |
| پوچھا تھا گرچہ تو نے الَسْتُ بِرَبِّكُمْ |
| قالو بلیٰ تو یاد نہیں سوچتا ہوں میں |
| مسجود قدسیاں تھا کبھی میرا یہ وجود |
| تب سے ہی اپنے نفس کو گردانتا ہوں میں |
| ظاہر میں اس زمین پہ فانی ہے میرا جسم |
| باطن میں لا یموت کو اب کھوجتا ہوں میں |
| میں کون ہوں میں کیا ہوں نہیں جانتا اگر |
| تو کون ہے کہاں ہے یہی پوچھتا ہوں میں |
| سنتا ہے وہ صدائیں دِلِ نامراد کی |
| ہاں دل تو مضطرب ہے اسے جانتا ہوں می |
معلومات