ہاتھ زخمی جو ہوئے آج تو معلوم پڑا
عمر لگتی ہے یہ دو چار کمانے کے لئے
کون کہتا ہے کہ جینا تو ہے آسان بڑا؟
عمر لگتی ہے رہ سے خار ہٹانے کے لئے
آنکھ کے سامنے تو منزلیں ہے پاس سبھی
عمر لگتی ہے تو اُس پار کو جانے کے لئے
دُکھ نہ دینا کسی کو دوستی کے عہدے پر
عمر لگتی ہے خفا یار منانے کے لئے
منہ پہ مسکان لئے دل کو صدا نم رکھنا
عمر لگتی ہے یہ کردار نبھانے کے لئے
بلاول علی صاحِبؔ

0