| جس کے آنچل میں ہو مہکی سی ہوا پھولوں کی |
| اس کے قدموں میں بھی ہوتی ہے قبا پھولوں کی |
| رنگ و خوشبو کا سفر رک نہیں سکتا ہرگز |
| قید کر سکتا نہیں کوئی ضیا پھولوں کی |
| ہم نے ہنس کر ہی گزارے ہیں کڑے وقت تمام |
| ہم نے سیکھی ہے زمانے سے ادا پھولوں کی |
| بام و در منتظرِ دستِ صبا ٹھہرے رہے |
| آئی لیکن نہ کسی در سے ندا پھولوں کی |
| گر کسی شوخ نے زلفوں میں سجایا ان کو |
| بڑھ گئی اور بھی دنیا میں ثنا پھولوں کی |
| شہرِ بے مہر کی گلیوں میں بھٹکنے والو |
| کون لائے گا یہاں اب کے دعا پھولوں کی |
| وہ جو پابندِ سلاسل ہیں انہیں کیا معلوم |
| کیسی ہوتی ہے بھلا، آب و ہوا پھولوں کی |
| خار چبھتے رہے پیروں میں مگر ہم نہ رکے |
| ہم نے تو اوڑھ کے رکھی ہے ردا پھولوں کی |
| فصلِ گل آئے گی، زنجیرِ ستم ٹوٹے گی |
| ہم نے دیکھی ہے یہی، مہر و وفا پھولوں کی |
| تیرگیِ شبِ فرقت سے نہ گھبرا خالد |
| راہ دکھلاتی ہے اب ہم کو ضیا پھولوں کی |
معلومات