| کہانیوں کے لٹھ لئے، کہانیوں کے لٹھ لئے |
| کہانیوں کے لٹھ لئے، کہانیوں کے لٹھ..... |
| وہ بھی تجھ پہ پل پڑے |
| تو بھی ان پہ پل پڑا..... |
| مجھ پہ بھی وہ پل پڑے |
| میں بھی ان پہ پل پڑا.... |
| سب سبھوں پہ پل پڑے.. |
| کہانیوں کے لٹھ لئے....... |
| کہانیوں کے لٹھ لئے، کہانیوں کے لٹھ لئے |
| کہانیوں کے لٹھ لئے، کہانیوں کے لٹھ..... |
| گھما رھے ہیں لٹھ کہ یوں |
| دوجے سب ہیں جانور..... |
| ھے مارنا جنہیں ثواب..... |
| اکھاڑنا جنہیں ثواب....... |
| جنہیں رگیدنا ثواب....... |
| کہانیوں کے لٹھ پہ رکھ... |
| اچھالنا جنہیں ثواب....... |
| کہانیوں کے لٹھ لئے، کہانیوں کے لٹھ لئے |
| کہانیوں کے لٹھ لئے، کہانیوں کے لٹھ.... |
| سچ تو میں ہوں جانتا... |
| کہانی صرف میری سچ.. |
| نہیں تو کچھ بھی جانتا. |
| میراث علم ھے میری..... |
| تو فرش پہ، میں عرش پہ |
| ھے ذرہ تو حقیر سا....... |
| میں تو مشتری، مہ نیم ماہ |
| ھے تو پدی، پدی کا شوربا... |
| ہوں میں سورما، ابن سورما، ابن سورما، ابن سورما |
| کہانیوں کے لٹھ لئے، کہانیوں کے لٹھ لئے |
| کہانیوں کے لٹھ لئے، کہانیوں کے لٹھ..... |
| ہیں یہ کام جن کے دھنی ہیں ھم |
| اب انھی میں ھے چھپی رستمی. |
| ھم ہیں توڑتے اک دوجے پہ........ |
| وہ ستم کہ چر خ بھی دم بخود.. |
| وہ بھی تھک گیا ھے، ذرا سنو..... |
| یہ تماشا تیرا بھی دیکھ کے........ |
| یہ تماشا میرا بھی دیکھ کے....... |
| یہ تماشا سب ہی کا دیکھ کے..... |
| دیکھو رو پڑا ھے فلک بھی اب... |
| کہانیوں کے لٹھ لئے، کہانیوں کے لٹھ لئے |
| کہانیوں کے لٹھ لئے، کہانیوں کے لٹھ..... |
| جو یہ سوچا سب تو میں رک گیا....... |
| میں نے لٹھ جو تھامی تھی پھینک دی |
| مرے دل میں بس یہ خیال تھا.......... |
| یہ تو بھائی بند ہیں میرے ھی........... |
| یہ تو میرے جیسے ھی ہیں سبھی..... |
| انہیں دکھ میں دوں نہیں ٹھیک یہ!!!! |
| اور تبھی سے میں اے فلک تو دیکھ!!! |
| گرا زخم اپنے ہوں چاٹتا!!!!!!!!!!!!!!!!!!! |
| اب جو لٹھ برستے ہیں لفظوں کے!!!!!! |
| نہیں ڈھال جس پہ کہ روک لوں!!!!!!!! |
| تو میں سوچتا ہوں اٹھوں میں پھر!!!! |
| اور اٹھاؤں لٹھ جو تھی پھینک دی!!!! |
| کہانیوں کے لٹھ لئے، کہانیوں کے لٹھ لئے |
| کہانیوں کے لٹھ لئے، کہانیوں کے لٹھ!!!!! |
| پھر میں خواب سا ہوں یہ دیکھتا |
| کہ فرشتہ اترا زمیں پہ اک!!!!!!!!!! |
| لئے ورق ہاتھ میں ڈھیر سے!!!!!!!! |
| جو چمک رھے مثل نور ہیں!!!!!!!!! |
| تب ٹھٹھک کے رکتے ہیں سب گروہ |
| تو وہ پوچھتا ھے یہ کیا تھا سب !! |
| تب ہر اک سناتا ھے داستاں!!!!!!!!!! |
| جو نہ ختم ہوں وہ کہانیاں!!!!!!!!!! |
| سبھی دوسروں کو رھے ہیں کوس |
| انھیں کہہ کے جھوٹے کہانی باز!!!! |
| کہانیوں کے لٹھ لئے، کہانیوں کے لٹھ لئے |
| کہانیوں کے لٹھ لئے، کہانیوں کے لٹھ!!!! |
| پھر ھے گونجتا اس کا قہقہہ!!!!!! |
| اور کراتا ھے وہ سبھی کو چپ!!!!!! |
| تم بھٹک گیۓ سبھی دوستو!!!!!!!!!! |
| وہ بتاتا ھے سب گروھوں کو!!!!!!!!! |
| جو کہانی ھے مرے ہاتھ میں!!!!!!!!! |
| وہ فلک سے لے کے ھوں آ رہا!!!!!!!!!! |
| بڑی سادہ ھے، بڑی مختصر!!!!!!!!!!!! |
| ھے وہ یه کہ تم سب ایک ھو!!!!!!!!! |
| نہیں فرق تم میں اور اس میں کچھ |
| تم ھو آدمی، ابن آدمی، ابن آدمی، ابن آدمی |
| پھینکو لٹھ سبھی اپنے ہاتھوں سے |
| اور گلے ملو سبھی دوستو !!!!!!!!!!! |
| کبھی لٹھ اٹھانا نہ پھر یہ تم !!!!!!! |
| یہی بس تمہاری ھے داستاں !!!!!!!! |
| تم هو آدمی، ابن آدمی، ابن آدمی، ابن آدمی |
| کہانیوں کے لٹھ گرے، کہانیوں کے لٹھ گرے |
| کہانیوں کے لٹھ گرے، کہانیوں کے لٹھ !!!!!! |
| سبھی چپ تھے اور وہ تھا جا رہا ! |
| سب ورق فضاؤں میں چھوڑ کے !! |
| پھر اجالا ہر سو گیا تھا پھیل !!!!!! |
| جیسے دھل گیا سب دلوں کا میل ! |
| جی ہاں یہ کہانی تھی اصل میں !! |
| جسے کوئی جھٹلا نہ پاۓ گا !!!!!!! |
| میرا خواب سچا هو اے خدا !!!!!!! |
| سبھی شانت ھوں اور گلے ملیں ،!! |
| نہ اٹھاۓ اب کبھی لٹھ کوئی !!!!!! |
| ابن آدمی، ابن آدمی، ابن آدمی، ابن آدمی |
| از : مصطفی سجاد حیدر |
معلومات