•─═══﷽═══─•

سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)

شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ

════❁✿❁════

تعارف:

قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔

ملاحظہ فرمائیے:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)

(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)

۔۔اصل مطلع۔۔

آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتا

تو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتا


سب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کا

سب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کا


بے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کا

خالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کا


ہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیں

توفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیں


ہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہے

اسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہے


وہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیں

ناکامی اور ہلاکت کے دُکھ درد جنھوں نے پائے ہیں

❁✿❁

ماخذ: نزہتِ دل

════❁✿❁════

نوٹ: اس نظم کی نسبت بعض لوگوں نے سلیم عبد اللہ کی طرف کی ہے جو کہ درست نہیں یہ نظم در اصل مھسلہ کوکن کے ایک شاعر جناب مہر مھسلائی صاحب رحمہ اللہ کی ہےجو ان کے مجموعۂ کلام "نزہت دل" میں موجود ہے اور یہ نظم مھسلہ کے انجمن اسلام اسکول میں روزانہ ترانے میں پڑھی جاتی ہے۔ (بقول: معروف شاعر جمال شاکر بھر تھانوی)

حوالہ: فیس بک میں رفعت بیان سلفی کی وال سے


15