مشرقی خواتین کے رویوں میں جنسی رجحانات کا اضافہ ایک پیچیدہ اور گہرے مطالعے کا موضوع ہے، جس کی وجوہات مختلف معاشرتی، اخلاقی اور تکنیکی عوامل سے جڑی ہیں۔ یہ رجحانات ان ممالک کی روایات اور اقدار کے پس منظر میں سمجھنا ضروری ہے، جہاں خواتین کو اپنی مرضی کی زندگی گزارنے کی آزادی محدود ہے۔
پاکستان جیسے ممالک میں خواتین کو اپنی مرضی کی شادی کرنے کی اجازت عام طور پر نہیں دی جاتی۔ والدین اور خاندان کے دباؤ کے تحت ان کے لیے جیون ساتھی کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ اس جبری صورتحال میں اکثر خواتین اپنی خواہشات کو دبانے پر مجبور ہوتی ہیں، جو ان کے جذباتی اور نفسیاتی مسائل کو جنم دیتی ہے۔
سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ نے مشرقی معاشروں میں جنسی رجحانات کے بڑھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ لڑکیاں جو اپنے گھروں سے باہر نکلنے کی آزادی نہیں رکھتیں، وہ انٹرنیٹ پر موجود مواد کو اپنی جنسی تسکین کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ یہ رجحان نہ صرف ان کے ذہنی اثرات پر اثرانداز ہوتا ہے بلکہ ان کے معاشرتی تعلقات پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔
ایسے معاشروں میں جہاں خواتین کو آزادانہ طور پر میل جول کی اجازت نہیں ہوتی، وہاں ہم جنس پرستی کا فروغ ایک فطری ردعمل کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ لڑکیاں جو اپنی حقیقی خواہشات کو پورا کرنے کے مواقع نہیں پاتیں، وہ اپنے قریبی دوستوں کے ساتھ تعلقات قائم کرنے لگتی ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف ان کے ذاتی مسائل کو بڑھاتا ہے بلکہ معاشرتی سطح پر بھی چیلنجز پیدا کرتا ہے۔
ایران اور سعودی عرب جیسے ممالک میں خواتین پر سخت پردے کی پابندیاں عائد ہیں۔ انہیں نہ صرف اپنی مرضی کے لباس کا انتخاب کرنے سے روکا جاتا ہے بلکہ ان کی آزادی بھی محدود ہوتی ہے۔ یہ سختیاں ان کے جذبات کو دبانے کا سبب بنتی ہیں اور انہیں دوسروں کے ساتھ اپنے مسائل پر بات کرنے سے بھی روکتی ہیں۔
ڈاکٹر شاکرہ نندنی کی زندگی اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ اگر خواتین اپنی ہمت اور خود مختاری کو پہچانیں، تو وہ ہر پابندی کو توڑ سکتی ہیں۔ ڈاکٹر شاکرہ کے والدین کی طلاق نے ان کی زندگی پر گہرا اثر ڈالا۔ ان کے والد نے ان کی والدہ پر سخت پابندیاں عائد کیں، لیکن ان کی والدہ نے ہمت دکھائی اور طلاق لے کر ڈاکٹر شاکرہ کو ساتھ لے کر روس منتقل ہو گئیں۔
ان کی والدہ نے ان کی تربیت اس انداز میں کی کہ ڈاکٹر شاکرہ نے زندگی میں کبھی ہار ماننے کا تصور نہیں کیا۔ ان کی والدہ نے کہا: "جب خدا تمہیں پَر دیتا ہے تو اُڑتے کیوں نہیں ہو؟ رینگ کر زندگی گزارنا ناشکری ہوتی ہے۔" یہ تربیت اور حوصلہ افزائی ہی تھی جس نے ڈاکٹر شاکرہ کو کامیابی کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔
ڈاکٹر شاکرہ کہتی ہیں: "اگر آپ میری بات سے اتفاق نہ بھی کریں تو رات کے وقت اکیلے کمرے میں اپنے آپ پر نظر ڈالیں۔ آپ کو بھی پَر لگے ہوئے ہیں، ذرا سی ہمت سے اڑان بھر سکتے ہیں۔ یہ پرواہ نہ کریں کہ لوگ یا معاشرہ کیا کہے گا۔ لوگ خلاف ہوں تو ڈریں مت، بلکہ یہ تو وہ مخالف ہوا ہے جو آپ کو اڑان بھرنے میں مدد دے گی۔"
ان مسائل کا حل مشرقی معاشروں میں خواتین کو زیادہ آزادی دینے اور ان کی تعلیم و تربیت پر توجہ مرکوز کرنے میں ہے۔ خواتین کو ان کے جذبات اور خواہشات کو سمجھنے اور ان کے لیے صحت مند مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ دوستانہ رویہ اختیار کریں اور ان کی باتوں کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اسی طرح، انٹرنیٹ پر جنسی مواد کی دستیابی کو کنٹرول کرنے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔
مشرقی خواتین میں بڑھتے ہوئے جنسی رجحانات کی وجوہات ان کی معاشرتی اور نفسیاتی ضروریات سے جڑی ہیں۔ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے معاشرے میں کھلی بات چیت اور اصلاحات کا عمل ناگزیر ہے تاکہ خواتین اپنی زندگی کو زیادہ بہتر انداز میں گزار سکیں۔
معلومات