| غمِ الفت کے سانچے میں نہ یوں ڈھلتے تو اچھا تھا
|
| چراغِ دل جلا کر ہم نہ یوں جلتے تو اچھا تھا
|
| بڑی مدت سے آنکھوں نے کوئی سپنا نہیں دیکھا
|
| نئے کچھ خواب آنکھوں میں اگر پلتے تو اچھا تھا
|
| بہاریں جب بھی آئی ہیں اسی غم نے ستایا ہے
|
| دلِ بنجر میں بھی کچھ گل نئے کھلتے تو اچھا تھا
|
|
|