خیال صبح کے تازہ گلاب رکھتا ہے
لبوں پہ اپنے جو ذکرِ مآب رکھتا ہے
کتابِ حسنِ محمد لکھے جو بھی وہ تو
وہ مصطفٰی سے ہی اپنا نصاب رکھتا ہے
درِ حضور سے ملتا ہے سب کو فیضِ حق
دیارِ یار سے وہ تو نساب رکھتا ہے
کہا کسی کا سنے گا بھلا وہ کیسے جو
کسی کہے کو وہ تو لاجواب رکھتا ہے
فضیلتِ دلِ آقا فضیلتِ مولا
فضیلتِ دلِ دیں آفتاب رکھتا ہے
مرا مجھی سے سوالِ وفا ہوا اکثر
مرا خدا تو مرا سب حساب رکھتا ہے
بتا مجھے تو محبت کروں کہ نہ ماجدؔ
تو ہی خیال ہے اسکا جواب رکھتا ہے
ماجد اسلام ماجدؔ

1
12
جناب نعت لکھنا بہت اچھی بات ہے مگر یاد رکھٰیں وزن اور بحور تو شاعری کا پہلا زینہ ہے اصل شاعری اسکے بعد شروع ہوتی ہے جو کڑی ریاضت سے آتی ہے۔
آپ کے اشعار میں زبان و بیان کی غلطیاں ہیں - عیوبِ سخن موجود ہیں - الفاظ کا غلط استعمال ہوا ہے تو کیا یہ بے ادبی نہیں ہےَ؟ وہ کلام جس کو لکھنا بھی آپ توہین سمجھتے ہیں اس کے لکھنے والے بھی محنت سے کسی مقام پہ پہنچ پاتے ہیں تو کیا آپ انکے بھی برابر آۓ بغیر محبت کا دعویٰ کریں گے؟

برا لگے تو معافی کا خواست گار ہوں مگر مجھ پہ لازم تھا کہ یہ پڑھنے کے بعد آپ کو احساس دلاؤں کہ آپ کہاں کھڑے ہیں آگے آپ جانیں۔
والسلام

0