جو درد چُھپا رکھا تھا دل کے چھالوں میں
وہ عیاں بھی ہوا تو آنکھوں کے پیالوں میں
ایسی ہوئی شبِ تاریک سے فُرقت میں الفت
کہ مری تو آنکھ بھی دکھتی ہے اب اُجالوں میں
فرصت ہی نہ ملی کہ جی لیتا کچھ اپنے لئے
پھنس کر رہ گیا اِس غم ہستی کے جالوں میں
یہ زندگی ایسے مقام پہ آ کے ہے اب ٹھہری
کہ میں خود کو ڈھونڈتا ہوں اپنے ہی خیالوں میں
اے جذبۂ جُنوں تیری ہی تسکیں کی خاطر
بن چکا ہوں حرفِ سوال کچھ اُلجھے سوالوں میں

0
21