ہم نے بھی کیا کیا دکھ درد نہیں ہیں جھیلے
جانے کہاں سے آئے ہیں آنسوؤں کے یہ ریلے
ہنگامہ ہے برپا چاروں اور مرے لیکن
جی رہے ہیں ہم پھر بھی ہر دم اکیلے اکیلے
دورِ جدید کا دیکھو یہ کیسا ہے بے حس دل
اپنے اپنوں سے کھیل محبت کا ہیں کھیلے
بے فکری میں جُھومتے تھے جہاں یاروں کے سنگ
یہ دل ڈھونڈے اب بھی وہ بچپن کے میلے
سب کچھ ہو جائے گا فنا یک لخت ہی جمالؔ
پر ہوں گے نہ ختم یہ بشرِ خاکی کے جھمیلے

0
28