کس قدر اعلیٰ ہے یہ فضیلت حُسینؑ کی
عظمت بنی ہے دین کی، عظمت حُسینؑ کی
تختِ یزید تختِ اُمیہ کدھر گیا؟
ہے آج بھی دِلوں پہ حکومت حُسینؑ کی
سجدہ ہے زیرِ تیغ، تلاوت ہے بَر سِناں
بے مثل ہے یہ شانِ عبادت حُسینؑ کی
قرآن اور عترتِ احمد جُدا نہیں
دیکھو زرا سِناں پہ تلاوت حُسینؑ کی
جرات نہ تھی کسی کو مقابل پہ آنے کی
تمثیلِ مرتضیٰ تھی شجاعت حُسینؑ کی
مومن ستم کے آگے جُھکاتا نہیں ہے سر
یہ درس دے گئی ہے شہادت حُسینؑ کی
وہ مطمئن رہیں گے قیامت کے روز بھی
حاصل رہے گی جن کو حِمایت حُسینؑ کی
آنسو بہا رہی ہے ہر اِک خلق آج تک
ایسی تھی درد ناک شہادت حُسینؑ کی
کام آئے گی لحد میں بھی محشر کے روز بھی
دل میں رہے ہمیشہ محبت حسینؑ کی

0
32