کسی غرض سے وہ میرے دیار میں آیا
میں سمجھا تھا شاید میرے پیار میں آیا
تب آیا جب یہ دل غم سے ہو گیا پتھر
مگر وہ پھر بھی انا کے خُمار میں آیا
میں نے تھی کھائی قسم تجھ کو بُھول جانے کی
لبوں پہ نام تو شدتِ بُخار میں آیا
میں خود سے خود ہی رہتا ہوں ہم کلام اکثر
یہ دل مرا کسی پُر غم حصار میں آیا
بے تابی میں بہہ چکی فصیلِ ضبط جمالؔ
یہ اشکوں کا سیلاب انتظار میں آیا

0
54