جو دل سے اتر جائے وہ اچھّا نہیں لگتا
ہر بات جو حلفاً کہے سچّا نہیں لگتا
گو عمر تو چھوٹی ہے مگر بات کی تہہ تک
اس طرح وہ پہنچا ہے کہ بچّہ نہیں لگتا
معصوم پہ یوں ظلم و تشدّد کا اعادہ
بیگانہ تو ہو سکتا ہے چچّا نہیں لگتا
اے کاش نئی پَود اسے دل میں بٹھا لے
جو باپ کہے بچّوں سے غُچّا نہیں لگتا
ہر رشتے میں ہی بُعد و تفاوت کا ہے امکان
پر خون کا رشتہ کبھی کچّا نہیں لگتا
رستے میں پڑا مِل گیا سونا کسی سِکھ کو
کہنے لگے اچھّا ہے پہ کچھّا نہیں لگتا

0
1
10
ہے وزن میں تو پوری پر کیا کریں صاحب
کہنا کہ غزل ہے یہ ، اچھا نہیں لگتا

0