میری دھڑکن مرے دل سے یہ صدا آتی ہے
تیری مٹی سے جو خوشبوئے وفا آتی ہے
تیری الفت ہے مرے خون کے ہر قطرے میں
میرے من سے نوا ، روز ندا آتی ہے
سونپ کو خود کو یوں لگتا ہے تری راہوں میں
مجھ کو جنت کی ، کوئی جیسے ہوا آتی ہے
میرے احساس کو ملتی ہیں دو آنکھیں جس سے
آگہی مجھ میں نکھر اور ذرا آتی ہے
بات دنیا میں تری عام مری ہو جائے
ہاتھ اٹھتے ہیں مرے لب پہ دعا آتی ہے
اک وفا تیری نہاں رہنے نہیں دیتی جو
یاد فریاد ، مجھے اپنی سدا آتی ہے
میں اسے سہہ لوں گا سینے پہ ہی بیٹا بن کے
سر پہ تیرے کوئی آفت جو بلا آتی ہے
اے وطن تیری محبت ہے مری نس نس میں
زندگی میری ہے گر اس میں قضا آتی ہے
ابر روئے گا ، مجھے برسے گا رم جھم بادل
غم منانے کے لئے جیسے گھٹا آتی ہے
آسماں اشک بہائے گا لحد پر شاہد
جس طرح یار منانے کو وفا آتی ہے

0
10