تا عمر بھٹکتے رہے ہم دشتِ تمنا میں
جو اِک خواہش نے جنم لیا تو اِک مر گئی ہے
اِک زندگی اور ملے تو کوئی کام کریں گے ہم
یہ تو باتوں خوابوں خیالوں میں ہی گزر گئی ہے

0
20