وقت کے ساتھ ٹھہر جاتا ہوں
روز بن کے یوں بکھر جاتا ہوں
روشنی آنکھ سے ڈر جاتی ہے
میں بھی دلدل میں اتر جاتا ہوں
لاد کے ساری تھکن برسوں کی
اپنے حق سے میں مکر جاتا ہوں
جنگ رہتی ہے مری خود سے اک
کیوں میں تکمیل پہ مر جاتا ہوں
عظمتیں تلتی ہیں جب بھی میری
نوک نیزہ کے میں سر جاتا ہوں
جب صدا دیتا ہے دریا مجھ کو
موج بن کے میں ابھر جاتا ہوں
بن کہانی میں گیا ہوں شاہد
یہ ہی سنتا ہوں جدھر جاتا ہوں

0
6