وہ نگاہِ شوق سے دور ہیں جنہیں ڈھونڈتی ہے نگا مری
کہ اجاڑ ہے دلِ فرش کے نہیں اب تلک ہے گزر تری
کوں خفا ہوئے کوں ہو روٹھے تم کا یہ عاشقی کا اصول ہے
میں کرو تو کیا کرو کیا نہیں کہ کروں میں وہ جو رضا تری
شبِ ہجر کی یہ چبن رہی کہ جنوں نے قلب کو داد دی
درِ جاں عزیز رہا تجھے تجھے فکرِ یار بھلی رہی
اسی فکر میں رہی ہے نظر کہ دیار یار کو دیکھ لیں
پر انہیں فراق میں ہے مزا یوں وصال میں بھی سزا رہی
نہیں کچھ گلہ مجھے یار سے ہے شکایتیں مجھے آپ سے
کہ نہ بن سکے کہ نہ ڈھل سکے جو مزاج یار کی تھی خوشی
وہی چاہتیں ہوں عروج پر وہی عاشقی کا رہے مزہ
جو ترے مزاج کا حسن ہے جو تری نظر میں گھلی رہی
مجھے رنگ دے پیا رنگ میں کہ وہ رنگ ہو ترے رنگ کا
نہیں میں رہوں کوئی دوسرا جو رہے تو رنگ ترا سہی
مرے بخت میں کوئی غم نہ ہو مری فکر میں تو ہی سنگ ہو
ہو رچا بسا رگ و جاں میں تو رہے بزم عشق میں بس تو ہی
مرے ناخدا مرے مہرباں اے سخی تو سن مرا ماجرا
ترے بن اکیلا نہیں میں کچھ جو نہیں ہو تو میں نہی سہی
ترے نام پر تو یہ جان ہے تو جو چاہے صدقے اتار دو
نہیں اور کچھ مرے پاس ہے ہو اسی میں گر جو خوشی تری
مرے مہرباں مرے جانِ جاں مرے غم کی اب تو دوا تو کر
مجھے جام وصل پلا زرا ہو اگر چہ اس میں نشہ سہی
ترا سنگِ در ہو مری جبیں ذیشان کو یہ قبول ہے
یہی در رہے یہی سر رہے جو رہے تو بس یہی نوکری

84