تیری یادوں کے لئے لمحے گزارے نکلے
چاند کے ساتھ شگوفوں سے ستارے نکلے
بدلا موسم ، رتیں پھر آئیں محبت والی
پھول بھی ساتھ مرے زلف سنوارے نکلے
ہجر ان کا ہمیں لے آیا اسی ساحل پر
با رہا ڈوب کے ہم جس کے کنارے نکلے
جھیل کی آنکھ سے کچھ نکلے یوں بہتے آنسو
رت جگوں سے جو جدائی کے سب مارے نکلے
موڑ پر اس نے جہاں دیکھا تھا مڑ کے ہم کو
اپنے دامن میں چھپے وہ ہی سہارے نکلے
لب و رخسار پہ ان کے حیا چھائی وہ ہی
بے خودی سی بھی ہماری یہ نظارے نکلے
پھیلی جو دھوپ کوئی پلکوں پہ شاہد اپنی
ہم بھی چوکھٹ پہ پڑے پیر پسارے نکلے

0
2
13
رت جگوں سے جو جدائی کے سب مارے نکلے

مصرع خارج البحر ہے۔۔۔اصلاح کیجے محترم!

0
جی محترم

0