ہم سے گلے نہیں کوئی اجڑے دیار کے
ہیں حوصلے جوان خزاں میں بہار کے
کانٹوں سے کھیل کے دیا گل کو شباب جو
کاٹے ہیں فاصلے بھی کئی ریگ زار کے
ہم نے بدلنے کو تری دنیا کے فیصلے
توڑے ہیں کوہسار قضا کی قطار کے
یہ بات اور ہے تجھے دینے کو زندگی
برسوں گزارے ہیں یونہی اس جیت ہار کے
اک شہر میں ترے کبھی جو آئے روشنی
ہر شام کو جلائے دیے انتظار کے
توڑی امید ہم نے نہیں دل کی بھی کبھی
من میں سجا کے رکھے ہیں پل اعتبار کے
وہ دیکھتا ہے راہ مری سوچ کے یہی
کھلنے لگے ہیں پھول کئی چشم یار کے
شاہد ! ہے جگ حسین بڑا دیکھے تو اگر
اس میں چمکتے چاند ہیں ، تارے وقار کے

0
3