پھنس گئے ایسے دلدل میں
اب باہر نکلنا مشکل ہے
دل میں اتنے آرزو ہے
سامنے ان کے رکھنا بہت مشکل ہے
یہ دل دل کی کہانی ہے
تیری بھی اور میری بھی
روز اسی دلدل میں چلنا پھرنا
کوئی کسی کا ہمسفر
کوئی تنہا کسی کو گھر کوئی بے گھر
کیوں ڈھونڈتا دل تجھے
ان راستوں سے ہوں میں ان راستوں سے بے خبر ۔۔۔۔۔۔۔۔
کیوں ڈھونڈتا ہوں
ان خوابوں خیالوں میں
ہے سامنے جن کو جلوہ گر
کوئی اُن کی نظر سے بے خبر
ہے کوںی چلتا پھرتا ہوا پتھر
کوئی در بدر کوئی رہ گزر
ہے سامنے اُن کو سارہ منظر
میں خود خودی سے بے خبر
جن کے دل میں ہے بس تیرا ڈر
وہ بندے کہاں ہے
اب ہے کدھر
تیری رحمت برستی ہے
ہر شے پر۔۔۔۔۔۔۔۔
تو ہی ہے میرا مولا کر در گزر
ڈال دے رحمت کی نظر
اے خالقِ کُل
اے مالکِ کُل بدل دے میرا دل
کردے آسان سب کے مشکل

0
46