انگلی پکڑ کے کل جسے چلنا سکھا دیا
آج اس نے سب کے روبرو نیچا دکھا دیا
اصلاً نہیں یہ کوئی بھی ربِّ قدیر ہے
اُس کو گرایا اِس کو پکڑ کر اُٹھا دیا
جس کی اساس پانی کی اک بُوند ہے اسے
لوگوں نے مکر و فن سے سروں پر بٹھا دیا
اے خالقِ نقوش مری ہر خطا معاف
تیرا پتہ نہیں تھا نبی نے بتا دیا
اب تک ہے ہم نوا مجھے اس بات پر ملال
پایا تو تھا کسی کو مگر پھر گنوا دیا
جسم و شکم کی حاجتوں پر اتّفاق نے
اک بد نصیب ماں کا بھی چُولہہ جلا دیا
دولت کے زور پر اسے سب اختیار ہے
ہر رات اک غریب کو دلہن بنا دیا
ہر ایک پر نگاہِ کَرَم ڈالتے رہے
دیکھا مجھے تو دُور سے پردہ گرا دیا
یہ امتیاز ہے فقط اقبال کو امید
ہر ایک قلب و ذہن کو جینا سکھا دیا

0
2