دلِ بے قرار آخر کیوں چین نہیں پاتا
طوق غموں کا گلے سے کیوں اُتر نہیں جاتا
میرے عشق میں ہی کوئی کمی رہ گئی جو
مُجھ کو خُدا بھی نظر کعبے میں نہیں آتا

0
18