مال و جاہ و حُسن و ضِیا کچھ بھی نہیں
یہ دنیا دھوکے کے سوا کچھ بھی نہیں
سینۂ مُفلس پہ چلتا ہے عدل کا تیر
صاحبِ زر کے لیے سزا کچھ بھی نہیں
اک پہلے ہی بُھوک گھر بَگھر ناچ رہی
اور کھانے کو غم کے سوا کچھ بھی نہیں
ہے دست و گریباں خُدا کے نام پہ جو
ایسے مُلاں کو خوف خُدا کچھ بھی نہیں
اُجڑ گیا یہ شہر ترے جانے کے بعد
اب زندگی میں رہا مزا کچھ بھی نہیں

0
11