بیتے لمحے کل کی باتیں یاد آئیں
وہ رنگوں کی سب برساتیں یاد آئیں
دن دیکھا تو چہرہ تیرا یاد آیا
رات کے دیکھے زلف کی راتیں یاد آئیں
بیٹا ایم اے کر کے گھر میں بیٹھ گیا
اپنے وقت کی چار جماعتیں یاد آئیں

بحرِ ہندی/ متقارب مسدس مضاعف


0
250
مجھے تجھ سے بچھڑ جانے کا دکھ ہے
کلی کے کھل کے مرجھانے کا دکھ ہے
مجھے کل تو نے ٹھہرایا تھا لیکن
جہاں کو آج ٹھکرانے کا دکھ ہے
وفا پانے کی دل میں آرزو تھی
تماشا بن کے رہ جانے کا دکھ ہے

مفاعیلن مفاعیلن فَعُولن


52
میں جہاں جاؤں تعاقب میں ہے رسوائی مری
مجھ کو محفل میں کیے رکھتی ہے تنہائی مری
مشورہ اپنے معالج کا رکھا بالائے طاق
آج گھائل کر گئی خود سے مسیحائی مری
ڈھونڈتا ہوں نقص خالق کی ہر اک تخلیق میں
باعثِ شرمندگی ہے پھر تو زیبائی مری

فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن


0
17
گُلوں کی پالکی میں ہے بہاروں کی وہ بیٹی ہے
چہِیتی چاند کی روشن سِتاروں کی وہ بیٹی ہے
ہماری بیٹیاں سب کے لیئے تکرِیم والی ہیں
کِسی بھی ایک کی عِفّت سو چاروں کی وُہ بیٹی ہے
وُہ چلتی ہے تو راہوں میں سُریلے ساز بجتے ہیں
کِسی اُجلی ندی کے شوخ دھاروں کی وہ بیٹی ہے

ہزج مثمن ثالم


0
32