Circle Image

Hassan Rayeen

@Hassan_Rayeen

حسان جو حسنینؓ سے نسبت ہے ہماری
ہم لوگ وفا کر کے بغاوت نہیں کرتے
حسنینؓ کے ہم عشق میں پڑھتے ہیں قصائد
ہم اب بھی یزیدوں کی حمایت نہیں کرتے
ان لوگوں سے حسانؔ کیا خاک نباہیں
اصحابِ محمدﷺ سے جو الفت نہیں کرتے

3
الفت میں محبت میں مروت نہیں کرتے
کیا خاک سخی ہیں وہ سخاوت نہیں کرتے
الفت میں ستم سہہ کے دکھا ہی دیا ہم نے
ہم لوگ امانت میں خیانت نہیں کرتے
احباب میں غم خواری کے آداب نہیں ہیں
بیمار کی آکر وہ عیادت نہیں کرتے

4
تیغِ ستم سے اس کے ہے یہ دل کٹا ہوا
اب عشق میں بھی زخم لگانا روا ہوا
احسن ہمارے ساتھ عجب سانحہ ہوا
ہر اک ہمارے ساتھ کا اچھا برا ہوا
یاروں کی آستیں میں ہے خنجر چھپا ہوا
تڑپا کے کہہ رہے ہیں وہ احسن کو کیا ہوا

4
موسمِ غم، رت جگائی خوب تر
مجھ کو تیری یاد آئی خوب تر
اشکِ حسرت بہہ رہے تھے رات بھر
غم کی شب ہم نے بتائی خوب تر
اب تمہیں ہم کیا کہیں تم غیر ہو
ہوگئی اب تو جدائی خوب تر

0
5
جب سے ہم رومان پرور ہو گئے
تیرے در کے ہم گداگر ہو گئے
اے درخشاں تو ہے مثلِ عنبری
چھونے سے تیرے معطر ہو گئے
اک نظر کیا تیری ہم پر پڑ گئی
ہم بھی صحرا سے سمندر ہو گئے

2
حسانؔ کی زبان پہ مدحت ہے آپﷺ کی
دل میں ہے عشق آپﷺ کا عظمت ہے آپ ﷺ کی
کُل عالمین کے لیے رحمت ہیں آپﷺ اور
جو کچھ یہاں ہے حسنِ عنایت ہے آپﷺ کی
صادق، امین کہتے ہیں اہلِ عرب انہیں
کفار کے دلوں میں بھی عظمت ہے آپﷺ کی

7
دیکھو تو رب کے بعد محمدﷺ کا نام ہے
کس قدر اونچا رب نے بنایا مقام ہے
ہر آن آپﷺ کا ہی مرے لب پہ نام ہے
ہر اک زباں پہ جاری درود و سلام ہے
کوئی نہ مثل آپﷺ کا ہے کائنات میں
سارے جہاں میں آپ ہی خَیرُ الْاَنام ہے

0
1
33
تجھ پر کروں میں جان قربان اے خدا
دل میں ازل سے ہے یہ ارمان اے خدا
کیوں کر نہ واروں تجھ پہ اپنی جان میں
تیرے لیے ہی میری ہے جان اے خدا
میری دعا ہے تجھ سے مال و زر نہ ہو
دل میں بسا ہو میرے ایمان اے خدا

0
1
25
آنکھوں سے وہ چرا کے مرے خواب لے گیا
ظالم ہے عشق  جی سے  مرے  تاب لے گیا
میرا سکون و چین بھی لوٹا ہے عشق نے
باقی  جو بچ گیا  تھا  وہ سیلاب  لے گیا
بچوں نے بھوک سے یہاں گِریہ جو سُر کیا
اتنا  میں  رو  دیا   کہ  مجھے  آب  لے  گیا

0
1
28
ہر ہر ورق پہ داستاں ہے حزن کی رقم
میری کتابِ زیست میں بس غم کے باب ہیں

0
1
18
ہاں ہم ہیں فقیر ہم کو کافی ہے بوریا
ضروری نہیں ہمارے گھر میں پلنگ ہو

12
کہوں کیا حال جو دل کا ہوا ہے
بہاریں ہے یہ دل الجھا ہوا ہے
بڑا اس کا یہاں چرچہ ہوا ہے
ذرا ہم بھی تو دیکھیں کیا ہوا ہے
کہ جس کی یاد میں سب کچھ بھلایا
وہی ہم کو یہاں بھولا ہوا ہے

9
مجھ کو کنویں میں پھینک کے جو لوٹ آئے تھے
ان بھائیوں سے کہہ دو ابھی تک حیات ہوں

8
اپنی جگہ ہے ہجر کا آزار مستقل
پیاسہ وصالِ یار کا پیتا ہے صبر کو

0
11
بن ترے یہ زندگی دشوار ہے
ساتھ ہو تیرا تو پھر گلزار ہے
فاعلاتن      فاعلاتن       فاعلن
ہاں مجھے بحرِ رمل سے پیار ہے
یوں بظاہر خوش نظر آتا ہوں گا میں
میرا اک اک غم پسِ دیوار ہے

0
13
رب کو سب ہی یار پیارے ہو گئے
اس طرح ہم بے سہارے ہو گئے
جیتے ہیں بدکار یاں پر اب تلک
نیک بخت اللہ کو پیارے ہو گئے‌
آپ کے آنے سے تاریکی گئی
دل میں روشن چاند تارے ہو گئے

12
کہ کرنا کیا ہے کیا کرنا نہیں ہے
یہ میں نے اب تلک سوچا نہیں ہے
نظر بیمار میری ہو چکی ہے
ہوئی مدت تمہیں دیکھا نہیں ہے
کچھ ایسے لوگ دل میں بس چکے ہیں
کہ جن سے ربط ہے رشتہ نہیں ہے

0
14
کیا ان کی مدح کرتے ہم اپنی زبان سے
فرصت نہیں ملی ہمیں اپنے بیان سے
ہر ذرہ اس زمیں کا ہے کیف و سرور میں
وہ سیر کی غرض سے جو نکلیں مکان سے
مجھ کو سنبھالیے کہ مرے ہوش اڑ گئے
آیا وہ ملنے مست قیامت کی شان سے

0
13
ہجر نے مجبور ہم کو کر دیا
دلربا سے دور  ہم کو کر دیا
زندگی بھر ہم بہت مغموم تھے
موت  نے  مسرور  ہم کو کر دیا
وصل میں تم نے ستم ڈھایا بہت
خود سے  اتنا  دور  ہم  کو کر دیا

0
15
دیکھیے    اب    آگیا   رمضان   ہے
خلد  کا    اب   داخلہ    آسان   ہے
کر  عبادت دل سے  مہ رمضان  ہے
ملنے  کا   جنت   ہمیں   امکان  ہے
یہ  مہینہ   تو   عظیم  الشان   ہے
اس میں  نازل  جو  ہوا  قرآن  ہے

0
23
اس دورِ موجدار میں تو ہے حَباب سا
کھولے جو آنکھ اپنی تو عالَم ہے خواب سا
تو تھا تو دل بہت ہی مِرا شاد تھا مگر
اب اس کو دیکھتا ہوں تو ہے گھر خراب سا
تجھ کو خبر نہیں کہ دَغَل تیرا دیکھ کر
سینے میں دل ہوا ہے یہ جل کر کباب سا

0
15
جن کو تھا عشق میں یہاں آزار مر گئے
جتنے ہمارے ساتھ تھے بیمار مر گئے
کیوں کر ہمارے حال کی اس کو خبر ملے
سر کو پٹک کے ہم پسِ دیوار مر گئے
سوقِ وفا سجا ہے کوئی پوچھتا نہیں
کیا دل کے سب یہاں پہ خریدار مر گئے

0
25
ہم کو یہاں خزاں سے گلہ ہے نہ پیار میں
ہم کو فراقِ یار کا ڈر ہے بہار میں
باتوں کو تیری مان لوں کیسے بتا دے جب
کچھ بھی ثبات ہے نہیں عہد و قرار میں
چپ ہیں یہاں جو تیرے ستم پر ہے یہ سبب
تیرا وہاں حساب ہے روزِ شمار میں

0
25
راہوں کو خار پایا ہر دل کو خوار پایا
ہم نے نہ پیار پایا نے اعتبار پایا
جن کو بہت گماں تھا چاہت پہ اپنی ہر دم
ان کو ہی ہم نے اکثر یاں اشکبار پایا
گزری ہے تنہا دیکھو یہ زندگی ہماری
افسوس ہے کہ ہم نے اک بھی نہ یار پایا

0
20
بَلَد نے تماشا بنایا ہمیں
نا وارد سے ہی چین آیا ہمیں
وہ جن لوگوں سے دل یہ بیزار تھا
انہیں نے کنارے لگایا ہمیں
وہ ہم کو رہا ڈھونڈتا ہر طرف
کتب خانے میں جا کے پایا ہمیں

0
22
سب کو مرنا ہے سب کی باری ہے
آج   میری   تو   کل   تمہاری  ہے
تیری شہرت یہ کچھ دنوں کی ہے
دیکھ  لے  میری   لمبی   پاری   ہے
یقیں معذور ہے گماں مفلس
کس قدر یہ بے روز گاری ہے

0
24
بن ترے جینا بہت دشوار ہے
تیرے آنے سے یہ دل گلزار ہے
فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
بحر یہ لگتی بڑی دمدار ہے
کیا غزل تجھ سے کہوں میں دلبراں
بس یہ کہتا ہوں تجھی سے پیار ہے

0
33
سنو لوگو! محبت کا بس اتنا سا فسانہ ہے
اگر روٹھے کبھی معشوق، عاشق کو منانا ہے
محبت کا میں پنچھی ہوں ترے دل میں ٹھکانہ ہے
تمہارا ساتھ مل جائے تو ہر موسم سہانا ہے
اسی کی زلف و رخ کا دھیان ہے شام و سحر مجھ کو
مجھے کتنی محبت ہے اسے بس یہ بتانا ہے

0
22
مری بیکار عادت ہے رو زانہ بھول جاتا ہوں
کہیں پر کچھ اگر رکھ دوں اٹھانا بھول جاتا ہوں
بھلا دوں گا یہ عادت میں ہزاروں بار سوچا ہے
یہ عادت بھول جانے کی بھلانا بھول جاتا ہوں
تمہارا نام مستی میں کہیں پر میں اگر لکھ دوں
کسی الزام سے پہلے مٹانا بھول جاتا ہوں

21
تیری ہی جستجو میں بھٹکتا ہوں رات دن
تیرے لیے ہی حمد میں لکھتا ہوں رات دن
اے ربِ ذوالجلال تو مجھ پر بھی کر کرم
میں ظلم اس زماں کے جو سہتا ہوں رات دن
ہر سمت ظلمتیں ہیں یاں دشوار زیست ہے
پھر بھی میں اس دیار میں جیتا ہوں رات دن

0
16
بے حد ہماری ذات میں پیوست غم ہوئے
مضبوط جتنے ہم ہوۓ اتنے ہی نم ہوئے
خوشیوں کی انجمن میں بھی رکھے قدم مگر
یہ غم ہماری ذات سے پھر بھی نہ کم ہوئے
لاکھوں تھی  چاہتیں یہاں اسواقِ دہر میں
تیری ہی چاہتوں میں گرفتار ہم ہوئے

0
17
ان آنکھوں سے بصیرت کھو گئی ہے
دکھائی کچھ نہیں دیتا ہے مجھ کو
سماعت بھی مری گم ہو گئی ہے
سمجھ میں کچھ نہیں آتا ہے مجھ کو

0
22
اٹھا جس کی طرف میرا قدم تھا
بہت ہی بے وفا میرا صنم تھا
کیا ہر پل مجھے اس نے ہی رسوا
محبت تھی کوئی یا پھر الم تھا
دیا غیروں نے ہی مجھ کو دلاسا
ترا مجھ پہ ہمیشہ سے ستم تھا

0
24
لاکھوں اذیتیں ہو مگر چشم تر نہ ہو
تم کو ہمارے حال کی ہرگز خبر نہ ہو
میری نہیں بسات ترا سامنا کروں
دنیا حریف ہو، تُو مخالف مگر نہ ہو
لو ہجر کٹ گیا ہوا آغاز وصل کا
ڈر ہے زمانِ وصل کہیں مختصر نہ ہو

0
26
وہ لمحہ بات کرنے کا بڑا انمول ہوتا ہے
تری یادیں تری باتیں عجب ماحول ہوتا ہے
جھکاتی ہیں وہ نظریں اور زلفیں کھول دیتی ہیں
بنا لفظوں کے ہی سب کچھ وہ ہم سے بول دیتی ہیں
وہ لمحہ بات کرنے کا بڑا انمول ہوتا ہے
میں جب بھی دیکھ لوں اس کو تو لب خاموش ہوتے ہیں

0
20
آشوب و سر کشی کا سمندر لگا مجھے
ہر شخص اس جہاں میں ستم گر لگا مجھے
اتنا مہیب شہر کا منظر لگا مجھے
اب لب بھی کھولنے پہ بہت ڈر لگا مجھے
معصوم طِفل شہر میں ہنستے تو ہیں مگر
ان کی ہنسی بھی غم کا ہی ساغر لگا مجھے

0
29
یہ ایسا موڑ ہے جاناں کہ ہے لازم پھسل جانا
ذرا ہم بھی سنبھل جائیں ذرا تم بھی سنبھل جانا
جہاں تک چل سکو تم ساتھ میرے چل پڑو جاناں
جہاں راہیں بدل جائیں وہاں تم بھی بدل جانا
نہ کوئی زور ہے تم پر بہانہ ڈھونڈتے کیوں ہو
تمہیں ہر پل اجازت ہے کہ جب چاہو نکل جانا

0
52
میں لوگوں کی عقیدت میں خطائیں چھوڑ دیتا ہوں
وفائیں یاد رکھتا ہوں جفائیں چھوڑ دیتا ہوں
یاں لوگوں سے کرو نفرت مرے اپنے یہ کہتے ہیں
میں ان کی نفرتوں والی صدائیں چھوڑ دیتا ہوں
میں یونہی بیٹھتا ہوں ساتھ میں اکثر فقیروں کے
بہت سادہ سا بندہ ہوں انائیں چھوڑ دیتا ہوں

0
30
ہم کو مٹا سکے یہاں کس میں مجال ہے
رہنے دو بے تکا سا فقط اک سوال ہے
خوشیاں ملی ہیں آج تو کل کو ملال ہے
اِس رَہ گزارِ زِیست میں ہجر و وصال ہے
دانا کی عقل صحبتِ ساقی نے چھین لی
کہتے ہیں ”مَے بھی اب تو یہاں پر حلال ہے“

0
17
بن ترے چین سے یہ زیست گزارا کرتے
ہم یہاں کیسے اذیت یہ گوارا کرتے
موم سمجھے تھے ترے دل کو سو پتھر نکلا
پھر بھی ہم  تجھ کو یوں شدت سے پکارا کرتے
توڑ ڈالا ہے یوں ایقان ہی ورنہ ہم بھی
تیری آنکھوں سے ہی دنیا کا نظارا کرتے

0
34
اے خدا ہم پر عنایت کیجیے
ہم تو ہیں عاصی ہدایت دیجیے
جو دعا مانگی ہیں ہم نے آج تک
اس کو بھی منظور اب کر لیجیے

0
22
یاروں کی کچھ خطا تھی نہ دل کا قصور تھا
جس نے کیا تباہ وہ میرا غرور تھا
فوری جزا ملے یہی خواہش میں چور تھا
میں اس قدر ازل سے یہاں ناصَبُور تھا
شام و سحر عجب سی بلا کا ظہور تھا
لگتے گلے ہی تیرے یہ دل چور چور تھا

0
28
ہمیشہ دیر کی میں ‌نے
ضروری کام کرنے میں خودی کی جنگ لڑنے میں
انا دل سے مٹانے میں دل اپنا پاک کرنے میں
ہمیشہ دیر کی میں ‌نے
کسی مظلوم کی دستار گرنے سے بچانے میں
کہ ضربیں جاکے ظالم کے واں ہاتھوں پر لگانے میں

0
28
جیتے ہیں گر زندگانی اور ہے
دیکھیے اب ہم نے ٹھانی اور ہے
جھیلے ہیں سارے یہاں کے رنج و غم
پر ہمیں اب سرگرانی اور ہے
میرا بھی دامن بھرا ہے داغ سے
کارِ بد ہاۓ  نِہانی اور ہے

0
24
ناکَس کو اپنے دل میں بسانے کا شکریہ
کرب و خلش سے مجھ کو بچانے کا شکریہ
مجھ کو بھی شوق تھا ترے چہرے کی دید کا
پردے کو رخ  سے اپنے اٹھانے کا شکریہ
مجھ کو رفاقتوں کی ضرورت بلا کی تھی
ہر گام ساتھ میرا نبھانے کا شکریہ

0
17
دنیا بدل گئی ہے زمانہ بدل گیا
تُولا و اُنس کا وہ فسانہ بدل گیا
اِکراہ کا رنگ ایک جو پھیلا بہار میں
طائِر کا اب چمن میں ترانہ بدل گیا
آفات میں جو ایک سہارا تھا دوستو
افسوس ہے کہ اب وہی شانہ بدل گیا

0
31
ہم کو ہماری شکل سے پرکھا نہ کیجئے
ہم بے کسوں کو یونہی رلایا نہ کیجئے
ہم تو تمہارے پیار کے پیاسے ہیں دوستوں
اک پل میں ہم کو ایسے پرایا نہ کیجئے
آتش جو جل اٹھی ہے محبت کی ہر طرف
اس آگ کو کبھی بھی بجھایا نہ کیجئے

0
29
جو بھی ہمارے ساتھ تا منزل نہیں رہا
وہ شخص اعتبار کے قابل نہیں رہا
کِردار کا گِرا وہ نظر سے بھی گر گیا
ہے قلبِ کُشتَہ لائقِ محفل نہیں رہا
کَیفَر سے فائدہ نہ ہی شکوے سے سُود ہے
ذِی حِس ہی جب ہمارا وہ قاتل نہیں رہا

0
17
ضربوں سے یار کی ہم اکثر بے باک ہے
جو خوفِ زندگی ہے اک مُشتِ خاک ہے
فضلِ خدا ہے دیکھو میرے چمن پہ یوں
قاتل بھی خود یہاں پر آکر ہلاک ہے
جوشِ جنوں سے کچھ بھی آتا نہیں نظر
گر ہو بَضِد یہ دل تو یہ چشم چاک ہے

0
20
تاذّی سے تَر یہاں پر میرا وُجُود تھا
کوئی یہاں نہ میرا گُفت و شُنُود تھا
احسان اس نے اَفزُوں مجھ پر کیے مگر
مطلوب اس کو اپنا نام و نَمُود تھا
اس کی اَزَل سے شاید نیّت میں کھوٹ تھی
اِمداد سے بھی اس کی حاصل نہ سُود تھا

0
16
ظاہر ہے غم ہمارے جو ان پر کہے بغیر
مانیں کہاں وہ بات مکرر کہے بغیر
گویائی اس کی تیز ہے دیکھو جہان میں
اس کا ذکر نہ ہو کبھی خنجر کہے بغیر
دل ہے یہ میرا کوئی بِساطِ رَہَن نہیں
دل میں بنایا میرے جو اک گھر کہے بغیر

0
25
ہر وقت پاس میرے زبانِ سِپاس ہے
کس نے کہا یہ تم سے کہ مرنے کی آس ہے
تم کو لگا کہ ہم نے اسے کھو دیا مگر
قلبِ حَزیں وہ آج بھی میرے ہی پاس ہے
دیتے ہیں جو سبق یہاں طرزِ حیات کا
وہ خود یہاں پہ اپنی ہی ہستی سے یاس ہے

0
26
گر تو بھی مان لے یہاں باتیں حضورؐ کی
تجھ کو ملیں گی واں پہ شرابیں طَہُور کی
راتوں کو جاگتی ہیں تمہارے خیال میں
ایسی ہی الفتیں ہیں شہیدوں سے حور کی
واں پر نہیں کہ واں سے نکالے ہوئے تو ہیں
جنت سے ہم کو دیکھ لے نسبت ہے دور کی

0
21
در زندگی ہماری غم کا ہی جوش ہے
صَوتِ حبیب دیکھو بالکل خموش ہے
نے گوش کچھ کہے نے کچھ چشمِ سر کہے
جیسے نِزاع مابینِ چشم و گوش ہے
اس کو قِلادہ کیسے گوہر کا لا کے دوں
وہ خود ہی ایک اَرفَع گوہر فروش ہے

0
38
ہو نازاں جوانی پہ کیوں کر تم اپنی
کہ دیکھو اجل نے کسی کو نہ چھوڑا
ہو فرعون، ہامان، قارون و نمرود
یاں دیکھو اجل نے ہے کن کن کو توڑا

0
24
خدا کے فضل کا بہتا ہوا دھارا مدینہ ہے
غمِ فرقت کے ماروں کا فقط چارہ مدینہ ہے
چراغِ آرزو لیکر کہاں نکلے ہو تم لوگوں
جہاں تاریک ہے سارا اور اک تارا مدینہ ہے
میں ہوں قربان یارو تُربَتِ اَرضِ مدینہ پر
مرے آقا کو بھاتا ہے بڑا پیارا مدینہ ہے

0
36
میرے نبیؐ کی‌ آنکھ کا تارا حسینؓ ہے
ہم کو بھی اپنی جان سے پیارا حسینؓ ہے
زہراؓ کے دل کا  ٹکڑا،  دلارا  حسینؓ ہے
میدانِ   کربلا  میں   سہارا  حسینؓ  ہے
ایماں حسین کا ہے شجاعت حسینؓ کی
مشہور ہے جہاں میں شہادت حسینؓ کی

0
22
جو لوگ تھے اَسرار منافق نکلے
ہم پر جو تھے نِثار منافق نکلے
بربادی قبیلے کی ہونی تھی ضرور
کچھ اپنے ہی سردار منافق نکلے
ہر وقت نکلتا ہے میرا ہی قصور
اس ملک کے اخبار منافق نکلے

0
20
ہر سمت  یاں ہر آن  میں کچھ ڈھونڈ رہا ہوں
ملنے  کا ہے امکان  میں  کچھ  ڈھونڈ  رہا ہوں
سمجھے  ہو  کیوں  مجھ  کو  گرفتارِ  محبت
رہنے دو  مری جان  میں  کچھ  ڈھونڈ رہا ہوں
جو پاس تھا  میرے  میں نے  وہ بھی  گنوادیا
اس  بات سے  انجان میں کچھ ڈھونڈ رہا ہوں

0
23
اٹھاتے ہیں قلم اپنا تو بس دلدار لکھتے ہیں
ستم احباب کرتے ہیں تو ہم گلزار لکھتے ہیں
نظر سے بچ کے چلنا تم کہ نظریں وار ہیں کرتی
وجہ ہے بس یہی آنکھوں کو جو فنکار لکھتے ہیں
زمانے کی روایت ہے نمک زخموں پہ رکھ دینا
ہم اپنے غم جو ہیں سارے پسِ دیوار لکھتے ہیں

0
21
یہی تجھ سے دعا مولا ہمیں عظمت عطا کر دے
فدا ہم تجھ پہ ہو جائے وہ الفت عطا کر دے
قیامت تک نبی کی سنتیں پھیلائیں دنیا میں
ہمیں تو شاہ کشمیریؒ کی سی چاہت عطا کر دے
رشید احمدؒ سا تقوی کر عطا اور علم قاسمؒ سا
حکیم اشرفؒ کے جیسی تو ہمیں حکمت عطا کر دے

0
18
میری زندگی میں جو داغ تھا اسے میں کبھی نہ مٹا سکا
نہ ملی مجھے کبھی چاہتیں نہ کسی کو اپنا بنا سکا
یہ میری ساری سفاہتیں ہیں ازل سے میرے ہی بخت میں
تھا جو پاس وہ بھی گنوادیا نہ اور کچھ ہی میں پا سکا
کرم کہو یا ستم کہو مرا حال سب سے جدا رہا
کوئی یاد مجھ کو نہ رکھ سکا نہ ہی میں کسی کو بھلا سکا

0
33
ہم کو مسافروں سے شکایت نہیں رہی
حاصل ہمیں کسی کی حمایت نہیں رہی
باتیں نہ اتحاد کی تم ہم سے کیجیے
ہو اتصالِ بزم سرایت نہیں رہی
ہنس کر گزار دیں گے ہم ایام اضطراب
اب ہم کو اس جہاں سے شکایت نہیں رہی

0
24
دولت بھی کھودی، بازی ہارے چلے گئے
سب میری زندگی سے پیارے چلے گئے
خوشیوں کو رخصتی کا رستہ بتا دیا
صدموں پہ زندگی کو وارے چلے گئے
ہم نے جہاں بھی دیکھا بیراگیاں ملیں
جو خوش تھے زندگی میں سارے چلے گئے

0
16
بہت مغرور دنیا ہے بڑا ظالم زمانہ ہے
دلوں میں بغض ہیں لیکن بظاہر دوستانہ ہے
وفا کے منتظر تم ہو یہاں کس کی دلِ ناداں
یہاں ہر ایک نے تم کو ہمیشہ چھوڑ جانا ہے
کسی کے بیچ رشتوں میں انا حائل یہ ہو جائے
وفائیں کیا نبھانی ہے محبت بھول جانا ہے

0
24
کسی دشمن کی ہم کو یوں طرف داری نہیں آتی
وفائیں خوب کرتے ہیں، اداکاری نہیں آتی
وجہ کیا ہے جو نفرت کی ہمیشہ بات کرتے ہیں
محبت کی بھلا کیوں دل میں چنگاری نہیں آتی
یہ ناداں قوم ہیں اپنی کہ جب طوفان آتا ہے
وہ بس شکوہ ہی کرتے ہیں کہ تیاری نہیں آتی

0
24
میں اک کاغذ یوں لے کر ہاتھ میں اس کو گھماتا ہوں
پھر اس میں ڈال کر کے دکھ دلوں کے خوب ملتا ہوں
گئے ماضی کے اچھے وقت بھی اس میں بساتا ہوں
جگہ اس میں بنا کرکے ذرا یادیں ملاتا ہوں
گھما کر ہاتھ میں اس کو یوں اک سگریٹ بناتا ہوں
لگاتا ہوں میں ہونٹوں سے محبت سے جلاتا ہوں

0
32
فہم نہ تجھ میں ہو اگر تو تیرا وقت ڈھل گیا
ذہین جو بھی ہے یہاں انہیں کا زور چل گیا
غرور تجھ کو تھا بڑا طاقتوں پہ شجر کی
ذراسی کیا ہوا چلی تو جڑ سے ہی نکل گیا
دل بہت ہی شاد تھا منزلیں قریب تھی
کہ جیتنے لگے جو ہم نصیب چال چل گیا

0
22
فردِ حزیں پہ آج عنایات ہوگئی
خود سے ہی آج میری ملاقات ہوگئ
افسوس وقت کیسی نئی چال چل گیا
اس پر بھی پاکے غلبہ مجھے مات ہو گئی
ظاہر تو کر رہا ہے کہ خوش حال ہے بہت
آنکھیں بتا رہی ہے کوئی بات ہو گئی

0
20
ہم کو بچھڑ کے پھر سے ملنا ضرور تھا
کس کو خبر تھی آخر کس کا قصور تھا
ایذائیں تونے دی جو مجھ کو کرم لگا
نظروں کا میری اس میں شاید فتور تھا
تجھ سے نباہ کرکے احساس یہ ہوا
میری ہی کچھ خطا تھی میرا قصور تھا

0
23
حکمِ خدا کو چھوڑا تو شیطان بھی گیا
اس کا اسی غرور میں ایمان بھی گیا
افضل ترین خلق ہیں حضرت بشر مگر
دولت جہاں کی دیکھی تو انسان بھی گیا
ٹوٹے دلوں کا شہر میں کرتا تھا جو علاج
سیلابِ ہجر میں وہی لقمان بھی گیا

0
19
سرِ میداں کسی ہشیار کو لایا جاۓ
جہاں خاموش ہے اب شور مچایا جاۓ
طنز اوروں پہ یوں کرنا تو ہے آسان مگر
کبھی خود پر بھی تو لوگوں کو ہنسایا جاۓ
غیر ممکن سے یہاں غیر نکل جاتا ہے
کام دنیا کو یہ اب کرکے دکھایا جاۓ

0
19
جلتے ہیں مجھ کو خوش وہ دلدار دیکھ کر
ادوارِ زندگی کو گلزار دیکھ کر
ہاں آج اس لیے میں بازار آگیا
دم گھٹ رہا تھا خود کو بےزار دیکھ کر
یہ کیسے رہ گزر میں کانٹے بکھر گئے؟
راہوں کو میں چلا تھا گلزار دیکھ کر

0
21
ہر سو ہے اس جہاں میں بغاوت کی انتہا
اے کاش یاں پہ ہوتی سخاوت کی انتہا
پہلے نہ دیکھتے تھے نگاہِ خفیف سے
اب تم میں بس گئی ہے حقارت کی انتہا
قتلِ بشر ہوا ہے مذہب کے نام پر
اس ملک میں عجب ہے عداوت کی انتہا

0
26
جب وہ ہم کو سلام کرتی ہے
دل کو میرے غلام کرتی ہے
بود و باش اس کا ہم سے پوچھیئے
میرے دل میں قیام کرتی ہے
دل کو میرے سکوں پہنچتا ہے
جب وہ ہم سے کلام کرتی ہے

0
21
ہماری زندگی سے ایک حیرانی نہیں جاتی
شرابیں پی کے کہتے ہیں مسلمانی نہیں جاتی
حسینوں پر جمی نظریں گرانا بھول جاتا ہے
دلِ ناداں کی یہ کمبخت نادانی نہیں جاتی
میں اکثر بھول جاتا ہوں گئے ماضی کے اچھے دن
ہمیشہ کی یہی میری پریشانی نہیں جاتی

0
31
اک داستانِ ظلم رقم کر رہے ہو تم
جو اس طرح سے ہم پہ ستم کر رہے ہو تم
ایسا نہ ہو دلوں کی تمہیں ہائے لگ پڑے
پر کیف شاخ دل کی قلم کر رہے ہو تم
ہر چند جانتے ہیں تجھے ہم قریب سے
احباب و یار پر ہی ستم کر رہے ہو تم

0
17
جب تو مجھ کو جدا لوگوں سے نظر آیا تھا
تجھ سے ملنے میں بلندی سے اتر آیا تھا
کیوں مجھے وعدہ فراموش بھلایا تو نے
تجھ سے ملنے میں اک آتش سے گزر آیا تھا
تھا مری ذات میں شامل یا تھا مطلوب مجھے
وہ جو اک شخص مرے دل میں اتر آیا تھا

0
23
دن رات گیت پیار کے گاتا رہے کوئی
دل کو سکوں کے جام پلاتا رہے کوئی
غفلت میں بس سکون سے سوتا رہے کوئی
اٹھ کر خدا کی یاد میں روتا رہے کوئی
اُمیدِ کَسْبِ یار میں جیتا رہے کوئی
حُزْنِ فِراقِ یار میں مرتا رہے کوئی

0
12
تجھ کو ہر روز ہم ستائیں گے
گر تو روٹھے تو ہم منائیں گے
دل میں جو کچھ ہے وہ بتائیں گے
تجھ سے کچھ بھی نہ ہم چھپائیں گے
امن کے گیت گنگنائیں گے
درد سہہ کے بھی مسکرائیں گے

0
24
اب جو مجھ کو نہیں کچھ بھی حاصل یہاں
بن   کے   رہتا  ہوں   میں   ایک  سائل   یہاں
پیچھے  آئے  نہیں  میرے  ساتھ  اب  کہیں
رنگ  جس  کے  لہو  میں   ہو  شامل  یہاں
اب   کہاں   جائے  ہم   چاہتیں   ڈھونڈنے
راستہ    منزلوں    کا   ہے    قاتل    یہاں

0
21
میں ‌نے سوچا کہ بتادوں اس کو
کتنی الفت ہے دکھا دوں اس کو
اس کی  سیرت پہ  فدا ہوں میں تو
ہم سفر  ہی  میں  بنادوں  اس  کو
مجھ سے پوچھے "ہے محبت کتنی"
اپنی  غزلیں  میں سنا دوں  اس کو

0
21
جنگ  و جدل  کے   تم  کو   قصے  سنائیں  گے
غیرت کے  جو  سبق ہے  وہ بھی  پڑھائیں  گے
تکتی ہے مجھ کو غیرت  پردے سے خود یہاں
باتیں حیا  کی  مجھ کو  وہ کیا  سکھائیں گے
آنکھوں   میں   میری   پیہم  جاہ و جلال  ہے
وہ  لوگ   ہے  کہاں  جو  نظریں   ملائیں  گے

0
20
برباد دل کو میرے آباد کر گیا
میں خوش ہوا تو پھر سے برباد کر گیا
میرے زیاں کی خاطر آیا تھا وہ مگر
سابق اذیتوں سے آزاد کر گیا
محفل میں بات میری مانی نہیں گئی
وہ ہی تھا بات میری جو صاد کر گیا

0
28
شہروں سے رفیقوں کے یہ پیغام ملے ہیں
جو لوگ تھے انمول وہ بے مول بکے ہیں
ملتے ہیں یاں عشاق کو پتھر کے جو تحفے
دیکھو یہ وفاؤں کو نبھانے کے صلے ہیں
ماں باپ نے الفت کا سبق جن کو پڑھایا
افسوس کہ اولاد یہ آپس میں لڑے ہیں

0
20
ہوا جب بھی چراغوں کو گلے اپنے لگاتی ہے
ضیا دم توڑ دیتی ہے سیاہی مسکراتی ہے
ہواؤں اور چراغوں میں ازل سے ضد کا رشتہ ہے
ہوا جب تیز چلتی ہے درخشاں روٹھ جاتی ہے

0
28