Circle Image

حمیداللہ ﻣﺎﮨﺮؔ

@Hamidullah1975

درد کی کب سبیل ہوتی ہے
سوچ ہی جب علیل ہوتی ہے
چند سانسوں سے مل کے بنتی ہے
عمر کتنی قلیل ہوتی ہے
عمر بھر کی دعائیں دیتے ہیں
سانس بھی تو طویل ہوتی ہے

8
جو نئے سال کا منانا ہے
یہ فقط ایک شاخسانہ ہے
جوں پرندوں کے پر بکھرنا ہے
برگ پیڑوں کے ٹوٹ جانا ہے
وقتِ ماتم کی اک مبارک ہے
اُس سے بڑھ کر یہ بوکھلانا ہے

15
ہے جو گردشِ ماہ و سال بھی
ہے عروج اس میں زوال بھی
وہ جو ہنس کے ملتے ہیں کینہ ور
ہے یہ ان کا فن بھی کمال بھی
درِ نعرۂ ہمسری میں سُن
ہے یہ حل کبھی اور چال بھی

5
شب کو تارے شمار کرتا ہوں
اُن کا یوں انتظار کرتا ہوں
وہ جو تنہائیوں کا ہمدم ہے
اس سے باتیں ہزار کرتا ہوں
آتی جاتی تمام سانسوں میں
اس کے احساں شمار کرتا ہوں

0
26
آئے جس کو کبھی قضا صاحب
رب کی سمجھو یہ تھی رضا صاحب
کب تفاوت ہے جب کہ ہر حصّہ
اک شجر سے ہی ہو جڑا صاحب
لوگ ووٹوں سے چننا چاہتے ہیں
اپنی مرضی کا اب خدا صاحب

0
16
دکھ میں مژدہ بہار کا آیا
یاد عارض جو یار کا آیا
ان کو جتنا بھی بھولنا چاہا
یاد وہ بے شمار کا آیا
جب بھی آئے کبھی تصور میں
وہ ہی لمحہ قرار کا آیا

0
6
سبق ہم کو ملا یہ زندگی سے
کمالِ دو جہاں ہے بندگی سے
نہ پوچھو بوجھ میرے بال و پر کا
ہوں میں آزردہ اپنی بستگی سے
ثنا کیسے کروں افسردہ ہوں میں
زباں کی اور قلم کی خستگی سے

0
27
اس جہانِ رنگ و بو میں کب کسی کو ہے ثبات
ہے فنا ہر چیز کو اک ماسوائے رب کی ذات
ہاں مگر اک اور بھی شے ہے کہ ہے جس کو دوام
عشق زادِ راہ ہے اور ہے یہی سوزِ تمام
چل دیا دنیا سے جو تھا صاحبِ ذہن و فطین
دولتِ توحید سے لبریز اور تھا اہلِ دین

16
دل کٹ کے رہ گیا تھا رنجیدہ دیکھ کر
معصوم و مفلسوں کو افسردہ دیکھ کر
خوشیوں سے کچھ وبا نے دامن کو بھر دیا
یوں ظالموں کو روز و شب لرزیدہ دیکھ کر

17
کسی کے رہ بدلنے سے کوئی مر ہی نہیں جاتا
ہمیشہ یوں بھی کوئی ساتھ دنیا میں نہیں رہتا
فقط اک بات ہے ماہر جسے کہتے ہیں دل دینا
کبھی کہنے سے کوئی دل کسی کو دے نہیں دیتا

17
صاحبِ مسند تو ہیں تاحشر سجّادہ نہیں
گرگ باراں دید ہیں لیکن جہاں دیدہ نہیں
دور ہے گرگ آشتی کا جس جگہ بھی دیکھئے
امن ہے ایسا جو دائم اور تابندہ نہیں

20
خلیفہ رب کا ہے کمتر نہیں ہے
فرشتوں سے تو کیوں بہتر نہیں ہے
مقام اپنا کبھی مت بھول جانا
خودی پہچان تو احقر نہیں ہے
کرے سجدہ جو ہر اک سنگِ رہ کو
تو اس بابت ترا یہ سر نہیں ہے

15
کبھی ان کے اک اشارے پہ یہ دل دریدہ کرتے
کبھی ان کی چشمِ نرگس سے ہی مے کشیدہ کرتے
جو شناسِ عشق ہوتے کبھی در پہ غیر کے ہم
نہ تو سر جھکاتے اپنا نہ کمر خمیدہ کرتے
کسی راہزن سے رہبر، سے نہ دب کے کوئی رہتا
نہ ثنائے کذب ہوتی نہ کوئی قصیدہ کرتے

0
21
در حقیقت سراب ہے دنیا
ایک پتلی طناب ہے دنیا
جس کو دیمک نے آن گھیرا ہے
ایک ایسی کتاب ہے دنیا
یا تو نعمت ہے زندگی ساری
یا تو پوری عتاب ہے دنیا

0
32
کسی نے نام پکارا جو احترام کے ساتھ
کسی ستم کا ارادہ ہے انتظام کے ساتھ
وہ دور ہے کوئی گر سلام بھی کر لے
تو وسوسوں نے گھیرا ہے اژدہام کے ساتھ
شکستہ دل تو پھر کھل ہی جائیں گے اس وقت
کوئی جو حشر میں آئے گا احتشام کے ساتھ

0
32
میں بس وہ اپنے سکوں کی خاطر، ہی روز نظمیں تراشتا ہوں
بسا کے اک ماہ رُو کو دل میں، میں ان کی ذلفیں سنوارتا ہوں
وہ حْسن میں بے مثال ہیں ہی، مگر کبھی میں برائے الفت
لگا کے غازہ ذرا سا اْن پر، میں ان کی صورت نکھارتا ہوں
جہاں کی بے راہروی کے ڈر سے، میں ان سے باتیں ہزار کر کے
کبھی میں نظریں اتار کر پھر کبھی میں چادر سنوارتا ہوں

0
22
لوح و قلم ہے کیا، ہے اثر کیا عصاؤں میں
تاثیر میں نے دیکھی ہے ماں کی دعاؤں میں
میں خاک چھانتا رہا ہوں یوں ہی عمر بھر
میرے لئے تو دو جہاں ہیں اس کے پاؤں میں
پرنم ہو پہلے مجھ سے بھی میرے غموں پہ جو
اتنا خلوص ڈھونڈوں میں کس کی وفاؤں میں

0
28
تیر و خنجر سے، نہ تلوار سے ڈر لگتا ہے
اب تو بس کوچہ و بازار سے ڈر لگتا ہے
جس نے در چھوڑ دیا ایک خدا کا اُس کو
ایک ادنیٰ سی بھی جھنکار سے ڈر لگتا ہے
جب سے یہ رسمِ جفا عام ہوئی بستی میں
تب سے الفت کے بھی اقرار سے ڈر لگتا ہے

0
20
ترا در ہے اور ترا نام ہے
مرا سر ہے اور مرا کام ہے
مجھے ہر نفس ترا ساتھ ہے
تو ہمیشہ برسرِ بام ہے
کہیں تیرا جلوۂ ناز ہے
کہیں ایک گردشِ جام ہے

0
22
ساری دنیا کے سچّے وہ سردار ہیں
روشنی کے اکیلے وہ مینار ہیں
جن کا ثانی نہیں کوئی ایثار میں
بےکسوں بےسہاروں کے غمخوار ہیں
جان اُن پر چھڑکتے ہیں سب امتی
معترف جن کی خوبی کے اغیار ہیں

0
24
محبت کیا ہے دیوانوں سے پوچھو
مزہ جلنے کا پروانوں سے پوچھو
چھلک جاتی ہے ان کی یاد میں جو
وجہ اُس مے کی پیمانوں سے پوچھو
فلک نازاں ہو جس پر ہو وہ ایسی
ہے کیا صحبت یہ جزدانوں سے پوچھو

0
20
جس نے شارع کو بنایا ہوگا
پھر کمیشن بھی تو کھایا ہوگا
ٹوٹی گاڑی کا بنا کر پرمِٹ
مال ظاہر ہے کمایا ہوگا
دے کے پروانہ وہ لاعلموں کو
گھر کو اینٹیں تو لگایا ہوگا

0
10
راستے ہو گئے پْر خطر دن بہ دن
دور پھر سے ہوا ان کا گھر دن بہ دن
پھر سے ڈاکو ہوے ہر طرف سر گرم
پھر سے مشکل ہوا ہے سفر دن بہ دن
یوں ہی کٹتے گئے روز و شب ہجر میں
زندگی ہو گئی مختصر دن بہ دن

0
17
کٹ گئے، لب سے کوئی آہ نہیں نکلی ہے
اس ستمگر کو تو پرواہ نہیں نکلی ہے
بے وفا ہونگے وہ پھر ہم یہ چمن کھو دینگے
کوئی افواہ بھی افواہ نہیں نکلی ہے
توڑ دینا جو مراسم کو کہے تدبیریں
کوئی یہ رسم کوئی راہ نہیں نکلی ہے

0
10
ابھی منقوش ذہن و دل پہ سب منظر وہ باقی ہے
وہ اس بیداد گر کے ہاتھ کا خنجر وہ باقی ہے
بشر کے واسطے حق سے کہا تھا جو ملائک نے
اگر پورا نہیں پر کچھ تو شور و شر وہ باقی ہے
برائی کو ابھی کھل کر تو وہ اچھا نہیں کہتے
ابھی لوگوں میں شاید کچھ خدا کا ڈر وہ باقی ہے

0
15
ہے دنیا یہ دارِ فانی کیا اس کا رکھنا غم
کبھی  یاں نہ لو لگاؤ نہ ہو آنکھ اپنی نم 
 جو بچے تھے کل وبا سے سبھی مر گئے وہ لوگ
 نہ ہی ہم سدا رہیں گے جو بچے بھی اب کے ہم 

0
19
جب بھی غم کے چھائے سائے
بولا دل جب ہائے ہائے
جتنے دکھ تھے اتنی ہی پھر
ہم نے پی لی چائے شائے

0
12
وہ نگاہِ مست ہے اک جامِ صہبا کی طرح
ساتھ ہے میرے وہ ہر دم ایک عنقا کی طرح
جو جگہ آباد کی ہے ہم نے مل کر عشق میں
پاک ہے میرے لئے وہ جیسے بطحا کی طرح
گنتیاں کیسے کروں ان کی وفائے ناز کی
عمر بھر بہتا رہا جو ایک دریا کی طرح

0
31
رب کے ہر حکم پر جان قربان ہے
اِس سے جو منحرف ہو وہ شیطان ہے
عقل و دانش پہ اپنی نہ تکیہ کریں
رہنمائی کی خاطر تو قرآن ہے
ان کی خوشبو اٹھا کر جو لاتی رہی
سب نسیمِ چمن کا یہ احسان ہے

36
زندگی میں جو کرے نیک عمل
اُس کو نازوں سے لے جائے گی اجل
خوش نما گزرے گا رستہ اس کا
خوب پائے گا وہ منزل پر پھل

0
21
سبب یہ پستی کا سنا جا سکتا ہے
رہِ خدا میں سر دیا جا سکتا ہے
عرب نہیں ہے قبلہ اپنا کعبہ ہے
غلط اگر ہو ٹھیک کیا جا سکتا ہے

30
تراشتا ہے وہ روز ہیرے، مگر وہ تھکتا کبھی نہیں ہے
وہ مول لیتا نہیں کسی سے، یہ جانے کیسا ہے شوق اُس کا

30
جب ڈوبنے لگے تو پشیمان ہو گئے
اور رفتہ رفتہ دیں کے نگہبان ہو گئے
عشقِ بتاں میں عمر گزاری تو پیری میں
جب کچھ نہ ہو سکے تو مسلمان ہو گئے

0
48
آج کے وعدوں پہ مت جایا کرو
سارے کوفہ کے ہیں خط اور کچھ نہیں

0
26
غیروں کی ہاں میں اپنی ملاتے گئے وہ ہاں
کوؤں کی کائیں کائیں ہے مردار دیکھ کر

0
31
ہیں نسب پہ اپنے فاخر، تو ہیں طعنہ زن کسی پر
ابھی بت کئی وہ سینوں میں چھپا کے پوجتے ہیں

15
مرا ہمدم وہ جس کا پھر نہ بن پایا کوئی ثانی
گلوں کی کر رہا ہے جانے کس گلشن میں افشانی
وہ جس کے غم میں سوکھے ہیں مرے گاؤں کے سب چشمے
مگر آنکھوں سے جاری ہے بہت سارا ابھی پانی
غم و اندوہ ہو یا پھر نشاط و شادمانی ہو
بنا اس یارِ جانی کے ہے ویرانی سی ویرانی

0
34
ہے نظر بھی پیام اے ساقی
عشق خود بھی ہے جام اے ساقی
میرے شعروں میں تیری خوشبو سے
میرا مہکے گا نام اے ساقی
تو نے مجھ کو حیات بخشی ہے
میں نے تجھ کو دوام اے ساقی

0
10
گر تمھیں زندگی میں خوشی چاہئے
اپنے اطراف میں دلکشی چاہئے
پھر اٹھا لے گی کاندھوں پہ دنیا تمھیں
صرف احساس کی خودکشی چاہئے

0
23
کبھی نہ راہِ وفا میں سود و زیاں کی باتیں کیا کرو تم
مگر رُتوں کے بدلتے رہنے سے باخبر بھی رہا کرو تم
جو پوچھ بیٹھیں کیا ہی کیا تھا طویل رستے میں ان کی خاطر
نئے زمانے کی چاہتوں میں حساب تھوڑا رکھا کرو تم

16
اک تبسّم اگر کیا ہوتا
ہم نے دل پیش کر دیا ہوتا
اک نظر ہی جو ڈال دی ہوتی
زخم دل کا رفو ہوا ہوتا
ان کا کوئی پیام آ جاتا
ہم نے پلکوں پہ رکھ لیا ہوتا

0
14
سب کو اک پیغام سنانا بھول گیا
سارا متن، عنوان بتانا بھول گیا
جانے کیا کیا بن بیٹھے ہم دنیا میں
بس خود کو انسان بنانا بھول گیا
جس نے اتنے تحفے دے ڈالے ہم کو
اس کے لئے نذرانہ لانا بھول گیا

21
رخشِ دوراں سوار ہے مجھ پر
دل تو زار و قطار ہے مجھ پر
ترکِ وعدہ وفائے دیرینہ
جرمِ قول و قرار ہے مجھ پر
ہاے غْربت، او وای تنہائی
مہرباں یوں بہار ہے مجھ پر

0
10
دل لگانے کی بات کرتے ہو
آزمانے کی بات کرتے ہو
بات الفت کی اِس زمانے میں
تم فسانے کی بات کرتے ہو
حسن مستور، عشق آوارہ
کس کو پانے کی بات کرتے ہو

0
39
شب کی تنہائی میں اُٹھ کر جو دعا دی ہوگی
اس نے جو بات بنانی تھی بنا دی ہوگی
رد نہیں ہوتی دعا کوئی پدر کی ﻣﺎﮨﺮؔ
اس نے تو عرش کی دہلیز ہلا دی ہوگی
خلد کا در ہے وہ سارے ہی دروں کے آگے
رب نے ہر راہ اسی در سے ملا دی ہوگی

0
28
میں اُن کو اپنا حبیب کر لوں
میں ایسا اونچا نصیب کر لوں
قریب کر لوں میں اُن کو چاہے
میں اور سب کو رقیب کر لوں
میں جان و دل اور جگر دکھا کر
میں اُن کو اپنا طبیب کر لوں

0
27
یوں شب و روز جفاؤں کی سیاست کرنا
باغباں بننا کبھی اور کبھی گلچیں بننا
قسم کھا لینا حفاظت کی دِیوں کی پہلے
اور یارانہ ہواؤں سے بناکر رکھنا

0
18
اس نے مجھ میں جو ڈال رکھا ہے
میں نے دل میں سنبھال رکھا ہے
جو بھی ہے بس وہ اک امانت ہے
جس کو نازوں سے پال رکھا ہے
اک یہی ہے مرا متاعِ حیات
میں نے اِس کا خیال رکھا ہے

24
گئے دن کسی کو گلے سے لگاتے
کبھی حالِ دل پاس جاکر سناتے
مصافحہ نہ بوسہ نہ قربت یہ ان کو
لرز کر رہے ہم بتاتے بتاتے
دعا دے کے اپنے چلے انجمن سے
عدو ہاتھ سب سے ملاتے ملاتے

0
20
انتظارِ بہار مت کرنا
درد کا اعتبار مت کرنا
پھول، کلیوں کے دام میں آکر
اپنے دامن کو خار مت کرنا
غفلتوں میں گزار دی ہے حیات
مجھ کو اچھا شمار مت کرنا

0
27
اُن کی وردِ زَبان میں ہوتا
کاش ایسا مہان میں ہوتا
میری خاطر پناہ وہ ہوتے
اُن کی خاطر امان میں ہوتا
میری دنیا میں ایک وہ ہوتے
اُن کا سارا جہان میں ہوتا

6
100
رسمِ دنیا کو گوارا کیجئے
جھوٹے وعدوں پہ گزارا کیجئے
اے دلِ زار اکیلے میں تم
نام بس اُن کا پکارا کیجئے
وہ جو مشہور زمانے میں ہیں
اُن ہی زلفوں کو نکھارا کیجئے

0
22
سبھی کونپلوں کو جو نوچ لے یہ وہ طرزِ استبداد ہے
جو بھی خار تھے وہی چن لئے یہ عجیب اس کا نہاد ہے
کبھی اس نے علم کی بات کی، کبھی سارے مکتب جلا دئے
یہ تضادِ فکر و نظر نہیں، یہ تو ایک پورا فساد ہے
کبھی دل کے آزر کو مار کر سبھی لات و عزیٰ کو توڑ دے
کبھی اپنے من کے خلاف اُٹھ، یہ سمجھ کہ یہ اک جہاد ہے

0
3
41
اگر کبھی کاش ایسا ہوتا کہ پھر میں بچپن سے چار ہوتا
تو پھر سے کچھ دن خوشی کے کٹتے، میں روبروئے بہار ہوتا
میں دوستوں کو بلا کے لاتا، میں پھر سے مٹی کے گھر بناتا
بنا کے کوئی اگر گراتا، تو پھر کسی پر نہ بار ہوتا
میں جو بھی پاتا وہ سب میں کھاتا، میں کل کی خاطر نہ کچھ بچاتا
جہاں پے تھکتا وہیں پے سوتا، بہت سا دل میں قرار ہوتا

0
55
ہوں مقبول تیرے سبھی حسنات
خدا بخش دے سب ترے سیئات
صلہ یہ ملے تجھ کو حق گوئی کا
ہوں اونچے وہاں پر ترے درجات
کبھی حمد ہو تجھ پہ سایہ فگن
کبھی نعت میں پھر کہی کوئی بات

0
48